پنجاب اور دیگر صوبوں میں انفراسٹرکچر ترقی کا فرق واضح نظر آتا ہے۔مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
لاہور (نیوز رپورٹر + نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں بلوچستان کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلباءاور طالبات بھی شامل تھے۔ نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے طلباءاور طالبات نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے ملاقات پر مسرت کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ نے اہل پنجاب کی طرف سے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے طلبہ کے لئے لیپ ٹاپ کا تحفہ پیش کیا۔ وفد میں شامل تمام طلبہ کو لیپ ٹاپ دینے کا اعلان بھی کیا۔ اس موقع پر طلباءاور طالبات کی طرف سے مریم نواز کو بلوچی چادر پہنائی گئی۔ طلباءو طالبات کے وفد نے دورہ لاہور اور مریم نواز سے ملاقات کو یادگار لمحہ قرار دیا۔ مریم نواز نے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہا پنجاب میں محروم معیشت افراد کیلئے خصوصی ہیلپ لائن شروع کررہے ہیں تاکہ بیماری علاج وغیرہ کیلئے فوری مدد کی جا سکے۔ میرا پہلی خاتون وزیراعلیٰ بننا پاکستان کی تمام بیٹیوں کا اعزاز ہے۔ پنجاب میں دیگر صوبوں سے روزگار اور بہتر مواقع کی تلاش میں آتے ہیں، ہم نے سب کیلئے دل کے دروازے کھولے ہیں۔ ہسپتالوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سب صوبوں کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ پنجاب کے چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام سے دوسرے صوبوں سے آنے والے بچے بھی مستفید ہوئے۔ ہزار بیڈ کا نواز شریف کینسر ہسپتال اس لیے بنایا تاکہ پنجاب ہی نہیں پاکستان بھر کے لوگ مستفید ہوں۔کبھی سندھی، پنجابی یا کشمیری کا فرق نہیں رکھا، ہم سب پاکستانی ہیں۔ پنجاب اور دیگر صوبوں میں دیگر انفراسٹرکچر اور ترقی کا فرق واضح نظر آتا ہے۔ پنجاب کو زیادہ شیئر ملنے کا پروپیگنڈا غلط ہے، ہر صوبے کو شیئر مل رہا ہے۔ پنجاب کے پاس پیسے ہیں ہمارے پاس پیسے نہیں، طلباءکبھی اس بہکاوے میں نہ آئیں۔ پنجاب میں عوام کا پیسہ عوام پر ہی لگایا جاتا ہے، دوسرے صوبوں سے یہی فرق ہے۔ پنجاب میں سفارش اور رشوت کا کلچر ختم کر دیا، ماضی میں یہاں پیسے لیکر کام ہوتے تھے۔ حلفاً کہہ سکتی ہوں کوئی بھی افسر سفارش پرنہیں لگایا۔ وی سی، سیکرٹری، ڈی سی، کمشنر کے پینل انٹرویو کے بعد سلیکشن کی جاتی ہے۔ ماضی میں ہراسانی، ریپ اور قتل کے واقعات تواتر سے ہورہے تھے۔ پنجاب میں کرائم کی شرح اب 100 سے 30 فی صد پر آ چکی ہے۔ جرم ہو تو24گھنٹے میں ملزم پکڑے جاتے ہیں۔ کرائم کنٹرول کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ اب سڑک پر کوئی ہیلمٹ پہنے بغیر نظر نہیں آتا، کرائم سین پر سب سے پہلے ڈرون پہنچ جاتا ہے، پینک بٹن دبانے پر پولیس فوراًپہنچ جاتی ہے، پنجاب میں اب مائیں بہنیں بیٹیاں محفوظ ہیں۔ پنجاب میں 100 فیصد تعیناتیاں میرٹ پر ہورہی ہیں۔ کیمرے کے ذریعے اب مجرم ہی ٹریک نہیں ہوتے بلکہ کوڑا کرکٹ کی نشاندہی ممکن ہے۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج، ٹیسٹ اور ادویات مفت دی جاتی ہیں۔ ماضی میں کینسر کے مریضوں کی ضروری ادویات اور فری میڈیسن بند کر دی گئی، اب پانچ لاکھ مریضوں کو گھر بیٹھے میڈیسن مل رہی ہیں۔ معمولی امراض کے لئے ہسپتال آنے کی ضرورت نہیں، ہزار کلینک آن ویل اور فیلڈ ہسپتال گاو ں گاو ں جارہے ہیں۔ پورے پنجاب میں چند کارڈیالوجی سنٹر تھے، سرگودھا، ساہیوال، مری میں کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ اور 16اضلاع میں کیتھ لیب بنا دیں۔ لاہورکے مختلف مقامات پر وائی فائی مفت میسر ہے۔ سرکاری سکولوں میں درکار ضروری سہولیات فراہم کررہے ہیں، ہر تحصیل میں سنٹر آف ایکسی لینس بنا رہے ہیں۔ یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ لاہور میں قائم ارلی چائلڈ ہوڈ سنٹر جیسا ادارہ کہیں نہیں ہوگا۔ جنوبی پنجاب میں غذائی قلت کا شکار طلبہ کے لئے اربوں روپے کا سکول میل پروگرام شروع کیا جس سے 11لاکھ داخلے بڑھ گئے۔ بچوں کے لئے لائبریری آن ویل اور سکول آن ویل پراجیکٹ لارہے ہیں۔ پنجاب میں 15لاکھ مزدورں کو راشن کارڈ دیئے، 50لاکھ مزدوروں کو راشن کارڈ دیں گے۔ 20 ہزار کلومیٹر سڑکیں بنادیں، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں میٹرو بس بن رہی ہے۔ جہاں پینے کا صاف پانی میسر نہیں، واٹر بوٹلنگ پراجیکٹ اور واٹر فلٹریشن پلانٹ لارہے ہیں۔ تمام اضلاع میں سیوریج اور ڈرینج کا کام ہورہے، ایک سال میں مسئلہ نہیں رہے گا۔ پنجاب ایئر ایمبولینس سروس شروع کرنے والا پہلا صوبہ ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا ہونہار سکالرشپ پروگرام شروع کیا، 80ہزار بچوں کی فیسیں اب حکومت ادا کر رہی ہے۔ اس سال ایک لاکھ بچوں کو لیپ ٹاپ، سکالر شپ اور الیکٹرک بائیک دیں گے۔ 2016ءمیں نواز شریف نے آئی ایم ایف کو الوداع کہہ دیا،2018 میں کون لایا سب جانتے ہیں۔ جن کی سیاست کا محور دوسروں کو چور، ڈاکو قرار دینا ہو وہ اکانومی کو کیسے ٹھیک کر سکتے ہیں۔ مانیٹرنگ اور چیک نہ ہو تو کوئی کام نہیں کرتا، جب تک پوری کوشش نہ کی جائے پراجیکٹ برقرار نہیں رہ سکتا۔ اگر سڑک اور بجلی نہیں ہوگی تو لوگ انڈسٹری کیسے اور کیوں لگائیں گے؟ ماضی میں لون لیکر ایک اینٹ بھی نہیں لگائی گئی، انفراسٹرکچر بنے گا تو ترقی آئے گی۔ قرض لیا پیسا اپنے اوپر لگایا یا عوام پر لگایا اسی سے فرق پڑتا ہے۔ پیسے نہیں ہیں ورنہ عوام کے لئے اور بہت کچھ کرنے چاہتی ہوں۔ عوام کیلئے پانچ کھرب بھی ہوتو کم لگتے ہیں، عوام کی خدمت کے پراجیکٹ جاری ہیں مگر یہ سب پراجیکٹ کافی نہیں لگتے۔ پنجاب میں بلوچستان کے طلبہ کو ہونہار سکالر شپ اور لیپ ٹاپ دے رہے ہیں۔ دانش سکولوں میں بلوچستان کے 260 طلبہ پڑھ رہے ہیں جبکہ 1500پڑھ کر جاچکے ہیں۔ پنجاب کے پراجیکٹ میں بلوچستان سمیت دیگر صوبوں کا حصہ الگ رکھ دیا۔ نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفد میں مکران سے تعلق رکھنے والی طالبہ نے کہا کہ لاہور اچھا لگا، وزیراعلیٰ مریم نوازشریف سے ملکر خوشی ہوئی۔ ایک طالبہ نے کہا کہ نواز شریف نے بلوچ طلبہ کو سکالر شپ دیئے بعد میں آنے والوں نے بند کر دیئے۔ مریم نواز شریف خوبصورت دکھائی دیتی ہیں، لیکن ان کا دل بھی بہت زیادہ خوبصورت ہے۔ پنجاب کی زرخیز سرزمین رواں سال گندم کی بہترین پیداوارمتوقع ہے۔ کسان کارڈ نے کی بدولت کاشتکاروں نے کھیتوں میں ریکارڈگندم کی کاشت کی۔کسان کارڈ کے ذریعے 100 ارب کے قرضے کاشتکاروں کو فراہم کیے جس سے کسانوں نے زرعی مداخل بغیر مشکل کے خرید لیے۔ دسمبر میں تقریباً13 لاکھ 56 ہزار میٹرک ٹن یوریا کھاد کی فروخت کا نیا ریکارڈ قائم ہوا۔ پنجاب کے کسان نے گزشتہ سال کے مقابلے میں 37 فیصد زیادہ یوریا کھاد خریدی کی۔ پنجاب کے کسانوں کو اب تک 100 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔ پنجاب کے کسانوں نے 100 ارب میں سے 65 ارب روپے عملی طور پر استعمال کر لئے۔ پنجاب کے کسان نے کھاد کی خریداری پر 47 ارب روپے خرچ کیے۔ مریم نواز نے کہا کہ کسان کارڈ نے نہ صرف پنجاب کی زراعت کی سمت یکسر بدل دی بلکہ کھیتوں میں اعتماد کی فصل بھی بو دی ہے۔ پنجاب کے کسان کے ہاتھ میں سرمایہ بھی، ٹیکنالوجی بھی ہے اور کسان کارڈ میں استعمال کے پیسہ بھی ہے۔ کسان کی ترقی پاکستان کی ترقی کیلئے ناگزیر ہے۔ مریم نواز نے جامعہ اشرفیہ کے مہتمم مولانا فضل الرحیم اشرفی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سوگوار خاندان اور دیگر متعلقین سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ مریم نواز نے کہا ہے کہ 5 جنوری 1949ءکو اقوام متحدہ کی قرارداد جموں و کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کی ضمانت دیتی ہے۔ حق خودارادیت انسانی وقار کا ایک اہم جزو ہے۔ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو دنیا کا سب سے بڑا ملٹری زون بنا دیا ہے۔ بھارت کو جان لینا چاہیئے کہ کوئی بھی دیوار آزادی کی خواہش کو روک نہیں سکتی۔ آزادی کشمیریوں کا حق ہے، انشاء اللہ کشمیریوں کی جدوجہد رنگ لائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے پنجاب کے کسان میں بلوچستان مریم نواز نے دیگر صوبوں کسان کارڈ نواز شریف رہے ہیں لیپ ٹاپ نے کہا کے وفد کے لئے
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔