data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

روسی سینیٹر الیکسی پشکوف نے خبردار کیا ہے کہ وینزویلا میں امریکا کی موجودہ عسکری کامیابی بظاہر فتح نظر آتی ہے، لیکن یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے مستقبل میں ایک بڑی تباہی ثابت ہو سکتی ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق الیکسی پشکوف کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے اقدامات اور بیانات بلاشبہ مؤثر دکھائی دیتے ہیں، تاہم ان کی حقیقی افادیت ایک الگ سوال ہے، ماضی میں بھی امریکی صدور عراق، افغانستان اور لیبیا میں اپنی کامیابیوں پر خوشیاں مناتے رہے، مگر انجام کار یہ مہمات شکست میں بدل گئیں، جیسا کہ افغانستان میں ہوا، عراق اور لیبیا میں امریکا کئی برسوں تک دھنسا رہا۔

روسی سینیٹر کے مطابق وینزویلا پر حملہ اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے ذریعے امریکا نے بین الاقوامی قوانین اور تمام عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کی ہے، امریکا نے ایک بار پھر دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور عالمی نظام کو انیسویں صدی کی وحشیانہ سامراجی سوچ کی طرف دھکیل دیا ہے۔

الیکسی پشکوف نے مزید کہا کہ امریکا نے ’’وائلڈ ویسٹ‘‘ کے تصور کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے، جہاں وہ مغربی نصف کرے میں جو چاہے کرنے کا حق اپنے لیے محفوظ سمجھتا ہے۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ فتح بالآخر ایک بڑے سیاسی اور سفارتی بحران میں تبدیل نہیں ہو جائے گی؟

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت(Gold Rates) مسلسل دوسرے روز بھی دباؤ کا شکار رہی، کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ مہینوں میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے بعد 4,030.09 ڈالر فی اونس رہ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.4 فیصد کم ہو کر 4,033.20 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سونا ہفتہ وار بنیاد پر معمولی اضافے کی جانب گامزن ہے، تاہم بلند شرح سود کے خدشات کے باعث اس کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔

مزیدپڑھیں:پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ

 ماہرین کا کہنا ہے کہ جب شرح سود میں اضافے کی توقع ہوتی ہے تو سونے جیسی ایسی سرمایہ کاری، جس پر منافع یا سود نہیں ملتا، نسبتاً کم پرکشش ہو جاتی ہے۔

سرمایہ کاروں کی نظریں اب آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی اجلاس پر مرکوز ہیں۔ مارکیٹ کی توقع ہے کہ اس اجلاس میں شرح سود برقرار رکھی جائے گی، تاہم ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات بدستور مضبوط سمجھے جا رہے ہیں

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ