برطانیہ میں فلسطین سفارتخانے کا افتتاح کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
لندن میں فلسطینی سفارت خانہ باضابطہ طور پر کھل گیا ہے، جسے فلسطینی قیادت نے عالمی پہچان اور خودمختاری کی علامت قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی سفیر حسام زملوط نے افتتاحی تقریب کے موقع پر کہا کہ یہ لمحہ فلسطینی عوام کے لیے تاریخی اور یادگار ہے، اور برطانیہ میں فلسطینی سفارت خانہ نہ صرف سفارتی تعلقات کا مرکز ہے بلکہ فلسطینی شناخت اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ حیثیت کا بھی آئینہ ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے ستمبر 2025 میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا اور اس کے بعد لندن میں فلسطینی مشن کی عمارت کو اپ گریڈ کر کے سفارت خانہ کا درجہ دے دیا گیا۔ یہ عمارت پہلے فلسطینی مشن کے طور پر کام کر رہی تھی، تاہم اب اسے سفارتی رسومات، دفاتر اور سیاسی امور کے لیے مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کچھ نقاب پوش عناصر نے اسرائیلی جھنڈے لہرا کر اس عمارت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی، لیکن برطانوی حکام کی نگرانی اور حفاظت کے بعد اب یہ عمارت محفوظ اور فعال حالت میں دوبارہ کھول دی گئی ہے۔
سفیر حسام زملوط نے افتتاحی تقریب کے دوران زور دے کر کہا کہ لندن میں فلسطینی سفارت خانہ نہ صرف فلسطینی عوام کے حقوق کی نمائندگی کرے گا بلکہ برطانیہ میں فلسطین کی ثقافتی، تعلیمی اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے بھی مرکزی مقام ہوگا، یہ سفارت خانہ عالمی برادری میں فلسطینی خودمختاری اور تسلیم شدہ ریاست کی حیثیت کو مزید مضبوط کرے گا اور مستقبل میں فلسطینی برادری کے عالمی تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
یہ اقدام فلسطینی قیادت کے لیے نہ صرف سفارتی کامیابی ہے بلکہ عالمی سطح پر فلسطینی مسئلے کے حل کے لیے مثبت اشارہ بھی سمجھا جا رہا ہے، جس سے بین الاقوامی تعلقات میں فلسطین کی موجودگی اور اثرورسوخ میں اضافہ متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل میں فلسطینی سفارت خانہ کے لیے
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔