data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ امریکا کی سب سے بڑی جیلوں میں شمار ہونے والی بروکلین جیل میں قید ہیں، جو اپنی خراب طبی صورتحال اور انتظامی خامیوں کے باعث بدنام جیل تصور کی جاتی ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ امریکہ وینزویلا کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہے، وینزویلا کے صدر نکولس مادورو گذشتہ ہفتے کی شام سے امریکہ کی سب سے بڑی جیلوں میں شمار ہونے والی بروکلین جیل میں قید ہیں، جو اپنی خراب طبی صورتحال اور انتظامی خامیوں کے باعث بدنام جیل تصور کی جاتی ہے۔

نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس اس وقت بروکلین کے شہری حراستی مرکز میں رکھے گئے نمایاں قیدیوں میں شامل ہیں۔ یہ مرکز امریکہ میں وفاقی سطح پر قبل از سماعت سب سے بڑا حراستی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔

پیر کے روز منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر الزامات سے خود کو بے قصور قرار دینے کے بعد نیویارک کے ایک وفاقی جج نے مادورو اور فلوریس کو تاحکمِ ثانی اس وسیع جیل میں حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔

بروکلین کا حراستی مرکز شدید دباؤ کے تحت کام کر رہا ہے اور اسے بدانتظامی کے الزامات کا سامنا ہے، جب کہ پرانی سہولتوں اور قیدیوں کے لیے صحت کی دیکھ بھال میں مسلسل مسائل پر اسے باقاعدگی سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہ جیل کئی سنگین واقعات کی بھی گواہ رہی ہے، جن میں سنہ 2019ء میں شدید سردیوں کے دوران تباہ کن بجلی کا طویل تعطل اور سنہ 2024ء میں دو قیدیوں کے چاقو کے وار سے ہلاک ہونے کے واقعات شامل ہیں۔

اس کے باوجود حالیہ عرصے میں’ این بی سی‘ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن کے خلاف جاری مہم کے تحت وہاں ایسے مہاجرین کو بھی رکھا جانے لگا ہے جن پر امریکہ میں غیر قانونی طور پر موجود ہونے کا شبہ ہے۔

نیو یارک میں شہری آزادیوں کی یونین کے خصوصی مشیر ڈینیئل لامبرائٹ نے اس حراستی مرکز کو خراب خوراک، بے قابو تشدد اور قیدیوں کے لیے طبی سہولتوں کی شدید کمی کا شکار قرار دیا۔

لامبرائٹ نے کہا کہ بروکلین حراستی مرکز ایک خفیہ اور غیر انسانی تباہی ہے جس کا امیگریشن قوانین کے نفاذ میں کوئی مقام نہیں ہونا چاہیے، اور یہ کہ کسی کو بھی اس طرح کی بدسلوکی برداشت نہیں کرنی چاہیے۔

حالیہ عرصے میں یہاں جن نمایاں قیدیوں کو رکھا گیا ان میں سزا یافتہ ریپ میوزک مغل شان ڈیڈی کومز، جیفری ایپسٹین کی سابق ساتھی اور جنسی جرائم میں سزا یافتہ غزلین میکسویل اور لاطینی امریکہ کے ایک سابق صدر خوان اورلینڈو ہرنانڈیز شامل ہیں، جنہیں حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معافی دی تھی۔

ادھر “سی این این” نے اس جیل کو زمین پر جہنم قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کے مطابق بروکلین حراستی مرکز سنہ 1994ء میں قائم کیا گیا تھا، جہاں تقریباً 1300 مرد اور خواتین قید ہیں۔ یہ اس وقت نیویارک شہر میں واحد جیل ہے جہاں وفاقی مقدمات کے منتظر قیدی رکھے جاتے ہیں۔

روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک خاتون قیدی نے شکایت کی کہ اس کی کوٹھڑی کچی،گندے پانی سے اور چوہوں کے فضلے کی وجہ سے خراب حالت میں ہے۔

اس کے برعکس امریکی محکمہ انصاف کے ماتحت بیورو آف پرزنز جو اس حراستی مرکز کی نگرانی کرتا ہےنے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔ تاہم ادارے نے ستمبر 2025ء میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ عملے کی تعداد بڑھانے اور دیگر اصلاحات کے باعث جیل کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حراستی مرکز مادورو اور اور ان

پڑھیں:

گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف

مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹو

مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔

گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟

نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔

نواز شریف کی زیرصدارت پارلیمانی بورڈ اجلاس، جی بی الیکشن کے لیے امیدواروں پر مشاورت

اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔

اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔

وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔

ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔

واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔

متعلقہ مضامین

  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف