بروکلین جیل زمین پر جہنم: وینزویلا معزول صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کا نیا ٹھکانا
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ امریکا کی سب سے بڑی جیلوں میں شمار ہونے والی بروکلین جیل میں قید ہیں، جو اپنی خراب طبی صورتحال اور انتظامی خامیوں کے باعث بدنام جیل تصور کی جاتی ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ امریکہ وینزویلا کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہے، وینزویلا کے صدر نکولس مادورو گذشتہ ہفتے کی شام سے امریکہ کی سب سے بڑی جیلوں میں شمار ہونے والی بروکلین جیل میں قید ہیں، جو اپنی خراب طبی صورتحال اور انتظامی خامیوں کے باعث بدنام جیل تصور کی جاتی ہے۔
نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس اس وقت بروکلین کے شہری حراستی مرکز میں رکھے گئے نمایاں قیدیوں میں شامل ہیں۔ یہ مرکز امریکہ میں وفاقی سطح پر قبل از سماعت سب سے بڑا حراستی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔
پیر کے روز منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر الزامات سے خود کو بے قصور قرار دینے کے بعد نیویارک کے ایک وفاقی جج نے مادورو اور فلوریس کو تاحکمِ ثانی اس وسیع جیل میں حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔
بروکلین کا حراستی مرکز شدید دباؤ کے تحت کام کر رہا ہے اور اسے بدانتظامی کے الزامات کا سامنا ہے، جب کہ پرانی سہولتوں اور قیدیوں کے لیے صحت کی دیکھ بھال میں مسلسل مسائل پر اسے باقاعدگی سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یہ جیل کئی سنگین واقعات کی بھی گواہ رہی ہے، جن میں سنہ 2019ء میں شدید سردیوں کے دوران تباہ کن بجلی کا طویل تعطل اور سنہ 2024ء میں دو قیدیوں کے چاقو کے وار سے ہلاک ہونے کے واقعات شامل ہیں۔
اس کے باوجود حالیہ عرصے میں’ این بی سی‘ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن کے خلاف جاری مہم کے تحت وہاں ایسے مہاجرین کو بھی رکھا جانے لگا ہے جن پر امریکہ میں غیر قانونی طور پر موجود ہونے کا شبہ ہے۔
نیو یارک میں شہری آزادیوں کی یونین کے خصوصی مشیر ڈینیئل لامبرائٹ نے اس حراستی مرکز کو خراب خوراک، بے قابو تشدد اور قیدیوں کے لیے طبی سہولتوں کی شدید کمی کا شکار قرار دیا۔
لامبرائٹ نے کہا کہ بروکلین حراستی مرکز ایک خفیہ اور غیر انسانی تباہی ہے جس کا امیگریشن قوانین کے نفاذ میں کوئی مقام نہیں ہونا چاہیے، اور یہ کہ کسی کو بھی اس طرح کی بدسلوکی برداشت نہیں کرنی چاہیے۔
حالیہ عرصے میں یہاں جن نمایاں قیدیوں کو رکھا گیا ان میں سزا یافتہ ریپ میوزک مغل شان ڈیڈی کومز، جیفری ایپسٹین کی سابق ساتھی اور جنسی جرائم میں سزا یافتہ غزلین میکسویل اور لاطینی امریکہ کے ایک سابق صدر خوان اورلینڈو ہرنانڈیز شامل ہیں، جنہیں حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معافی دی تھی۔
ادھر “سی این این” نے اس جیل کو زمین پر جہنم قرار دیا ہے۔
خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کے مطابق بروکلین حراستی مرکز سنہ 1994ء میں قائم کیا گیا تھا، جہاں تقریباً 1300 مرد اور خواتین قید ہیں۔ یہ اس وقت نیویارک شہر میں واحد جیل ہے جہاں وفاقی مقدمات کے منتظر قیدی رکھے جاتے ہیں۔
روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک خاتون قیدی نے شکایت کی کہ اس کی کوٹھڑی کچی،گندے پانی سے اور چوہوں کے فضلے کی وجہ سے خراب حالت میں ہے۔
اس کے برعکس امریکی محکمہ انصاف کے ماتحت بیورو آف پرزنز جو اس حراستی مرکز کی نگرانی کرتا ہےنے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔ تاہم ادارے نے ستمبر 2025ء میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ عملے کی تعداد بڑھانے اور دیگر اصلاحات کے باعث جیل کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حراستی مرکز مادورو اور اور ان
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :