پنجاب بھر میں دھند برقرار، موٹرویزمختلف مقامات پر بند
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: صوبہ پنجاب میں دھند نے راستے دھندلا دیےجس کے باعث موٹرویزمختلف مقامات سے بند کردی گئیں۔
سینٹرل ریجن ترجمان کے مطابق موٹروے ایم-3 جڑانوالہ سے درخانہ، موٹروے ایم-4 پنڈی بھٹیاں سے عبدالحکیم اور گوجرہ سے عبدالحکیم، موٹروے ایم 5-ملتان سے ظاہر پیر، اور ملتان سے سکھر تک دھند کے باعث بند کردی گئیں۔اِسی طرح موٹروے ایم -5 ملتان سے ڈیرہ اسماعیل خان اور رحیم یار خان سے روہڑی تک دھند کی وجہ سے حدِ نگاہ کم ہونے پر موٹرویز بند کردی گئیں۔
ترجمان نے بتایا کہ موٹرویز کی بندش کا مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے، دھند میں لین کی خلاف ورزی خطرناک حادثات کا باعث ہو سکتی ہے، روڈ یوزرز لین ڈسپلن پر سختی سے عمل کریں، شہری دن کے اوقات میں سفر کو ترجیح دیں، دھند میں صبح 10 تا شام 6 تک محفوظ سفری اوقات ہیں۔
موٹر ویز سینٹرل ریجن ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ڈرائیور حضرات فوگ لائٹس لازمی استعمال کریں، غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں، تیز رفتاری نہ کریں، آگے والی گاڑی سے محفوظ فاصلہ رکھیں اور رہنمائی اور مدد کے لیے ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: موٹروے ایم
پڑھیں:
مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
اسلام آباد، گزشتہ مہینے پاکستان میں 3ہزار 161نئی کمپنیاں رجسٹرڈ(companies registerd) ہوئیں جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2لاکھ 97 ہزار 239 تک پہنچ گئی۔ ڈیجیٹلائزیشن کے باعث 99.9 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر کی گئیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق صوبائی اور علاقائی لحاظ سے مئی کے دوران سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں پنجاب میں رجسٹر ہوئیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔
خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کا سیکٹر سرفہرست رہا، جہاں آئی ٹی میں سب سے زیادہ 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
اس کے بعد ٹریڈنگ میں 503 ، سروسز سیکٹر میں 404 ، رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں 303 جبکہ سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 206 نئی کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی۔ مئی میں 17 ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔
مزید پڑھیں:بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
چین سرفہرست رہا جہاں کے نواسی شیئر ہولڈرز نے کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی۔ تمام غیر ملکی کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ تیرہ کروڑ چورانوے لاکھ روپے ہے۔