Jasarat News:
2026-06-02@22:31:02 GMT

امریکا اتنا بہادر تو نہیں ہے

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکا کوئی بہادر ملک نہیں ہے یہ ہم ویت نام، عراق، افغانستان میں دیکھ چکے ہیں، یہ صرف مقامی ایجنٹوں کی مدد سے کارروائی کرتا ہے، اور پھر جب پائوں جلتے ہیں تو دم دبا کر بھاگ جاتا ہے، یہ اس کے ایجنٹ ہی ہیں جو ہمیں امریکا کی قوت سے ڈراتے رہتے ہیں، چلیے آج تو وینزویلا کی بات ہورہی ہے، ماضی قریب کی بات کر لیتے ہیں، جب امریکی اسامہ بن لادن کو لے گئے تھے، وینزویلا میں ایک رائے پائی جاتی ہے کہ امریکیوں نے ان کے صدر اور ان کی اہلیہ کو وہاں کے محافظوں سے گٹھ جوڑ کرکے اغواء کیا اور نیویارک لے گئے، جب اسامہ بن لادن کے لیے آپریشن ہوا تو پھر ہم بات کر لیتے ہیں اس وقت کے حکمرانوں سے کہ آئیے بتائیے کہ یہ آپریشن کیوں اور کیسے ہوا؟ یہ تو ہمیں اس وقت کے صدر جناب زرداری، اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی اور اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ہی بتائیں یا بہتر بتا سکتے ہیں کہ وینزویلا کے عوام کی رائے درست ہے یا نہیں۔ وینزویلا کی رائے عامہ کا ایک متحرک گروپ یہ کہتا ہے کہ وینزویلا کے صدر کے اغواء کی کارروائی میں وہاں کے جرنیل ملوث ہیں، وہاں کے عوام کی اس رائے کے معتبر ہونے یا نہ ہونے پر ضرور غور ہونا چاہیے اور اس پر ہمیں کسی تجربہ کار دانش مند تجزیہ کار کی ضرورت ہے۔

محافظ کا کام کیا ہوتا ہے؟ یہی کہ ہر قیمت پر اس کو اپنے فرائض انجام دینے ہیں اور اس کی حفاظت کرنی ہے، جس کے وہ محافظ بنائے گئے ہیں، جناب صدر زرداری، جناب یوسف رضا گیلانی اور جناب جنرل کیانی، میدان میں آئیں کچھ تو اپنے تجربے کی روشنی میں بتائیں کہ وینزویلا میں کیا ہوا ہوگا؟ یہی ہوا کہ چند روز قبل امریکا نے اپنی جارحانہ اور غاصبانہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے تیل اور معدنیات کی دولت سے مالا مال ملک وینزویلا پر حملہ کیا اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے کر ملک سے باہر منتقل کر دیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ایک کامیاب کارروائی قرار دیا، بالکل ایسے ہی صدر بارک اوبامہ بھی اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے آپریشن پر خوش اور مسرور ہوئے تھے، جس کے بدلے میں انہیں دوسری ٹرم بھی مل گئی تھی، اب ٹرمپ بھی بہت خوش اور شاد ہیں، لیکن ہمارا سوال تو یہ ہے کہ وینزویلا کے عوام کی یہ رائے کس حد تک درست ہے کہ اس کارروائی میں وہاں کے جرنیلوں نے امریکیوں کا ساتھ دیا، اس سوال کا جواب ضرور ملنا چاہیے، کہ ایسا ہوا یا نہیں ہوا؟ اگر یہ رائے درست ہے تو پھر وہاں کے محافظوں کو کیا سزا ملے گی؟ کون سزا دے گا؟ وینزویلا کا قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے۔

ہمارا بھی ایک آئین ہے مگر ہمارا آئین تو بے چارہ ایوب خان کے ہاتھوں بھی پامال ہوا، پھر ضیاء الحق نے اسے معطل کیے رکھا، اس کے بعد جنرل مشرف نے بھی سوچا وہ کیوں پیچھے رہیں، لہٰذا وہ بھی آئے اور آئین معطل کرکے ملک کے چیف ایگزیکٹو بن گئے، اور انہیں مشورہ دینے والوں میں شریف الدین پیرزادہ پیش پیش تھے، حافظ حسین احمد انہیں جدہ کا جادو گر کہتے تھے، ہمارا تو اتنا کہنا ہے اور اس انتظار میں ہیں کہ اگر وقعی وینزویلا کے جرنیل ملوث نکلے تو انہیں کیا سزا ملے گی؟ امریکی صدر نے فاکس نیوز سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا ہے کہ وینزویلا کی قیادت کے لیے حزبِ اختلاف کی رہنما ماریا کورینا مچادو کے نام پر غور کرنا ہو گا۔ اصل میں تو کہانی بھی انہی سے شروع ہوتی ہے کہ جب انہیں امریکا مدعو کیا گیا استقبالیہ دیا گیا اور پھر آپریشن کیا گیا، ہوسکتا ہے کہ مادورو کو اب بین الاقوامی انصاف کا سامنا کرنا پڑے، مگر وہ لوگ جو ان کے محافظ تھے وہ انہیں بچانے میں کیوں ناکام رہے؟ دوسری جانب امریکی صدر ایران کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ ایران کے مختلف شہروں میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں شریک لوگوں کے خلاف اگر کوئی کارروائی کی گئی تو امریکا مداخلت کرے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم پوری طرح تیار ہیں۔ اللہ ہی خیر کرے۔

 

میاں منیر احمد.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ وینزویلا وینزویلا کے اس وقت کے وہاں کے اور اس

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان