Jasarat News:
2026-07-24@06:47:43 GMT

امریکا اتنا بہادر تو نہیں ہے

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکا کوئی بہادر ملک نہیں ہے یہ ہم ویت نام، عراق، افغانستان میں دیکھ چکے ہیں، یہ صرف مقامی ایجنٹوں کی مدد سے کارروائی کرتا ہے، اور پھر جب پائوں جلتے ہیں تو دم دبا کر بھاگ جاتا ہے، یہ اس کے ایجنٹ ہی ہیں جو ہمیں امریکا کی قوت سے ڈراتے رہتے ہیں، چلیے آج تو وینزویلا کی بات ہورہی ہے، ماضی قریب کی بات کر لیتے ہیں، جب امریکی اسامہ بن لادن کو لے گئے تھے، وینزویلا میں ایک رائے پائی جاتی ہے کہ امریکیوں نے ان کے صدر اور ان کی اہلیہ کو وہاں کے محافظوں سے گٹھ جوڑ کرکے اغواء کیا اور نیویارک لے گئے، جب اسامہ بن لادن کے لیے آپریشن ہوا تو پھر ہم بات کر لیتے ہیں اس وقت کے حکمرانوں سے کہ آئیے بتائیے کہ یہ آپریشن کیوں اور کیسے ہوا؟ یہ تو ہمیں اس وقت کے صدر جناب زرداری، اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی اور اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ہی بتائیں یا بہتر بتا سکتے ہیں کہ وینزویلا کے عوام کی رائے درست ہے یا نہیں۔ وینزویلا کی رائے عامہ کا ایک متحرک گروپ یہ کہتا ہے کہ وینزویلا کے صدر کے اغواء کی کارروائی میں وہاں کے جرنیل ملوث ہیں، وہاں کے عوام کی اس رائے کے معتبر ہونے یا نہ ہونے پر ضرور غور ہونا چاہیے اور اس پر ہمیں کسی تجربہ کار دانش مند تجزیہ کار کی ضرورت ہے۔

محافظ کا کام کیا ہوتا ہے؟ یہی کہ ہر قیمت پر اس کو اپنے فرائض انجام دینے ہیں اور اس کی حفاظت کرنی ہے، جس کے وہ محافظ بنائے گئے ہیں، جناب صدر زرداری، جناب یوسف رضا گیلانی اور جناب جنرل کیانی، میدان میں آئیں کچھ تو اپنے تجربے کی روشنی میں بتائیں کہ وینزویلا میں کیا ہوا ہوگا؟ یہی ہوا کہ چند روز قبل امریکا نے اپنی جارحانہ اور غاصبانہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے تیل اور معدنیات کی دولت سے مالا مال ملک وینزویلا پر حملہ کیا اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے کر ملک سے باہر منتقل کر دیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ایک کامیاب کارروائی قرار دیا، بالکل ایسے ہی صدر بارک اوبامہ بھی اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے آپریشن پر خوش اور مسرور ہوئے تھے، جس کے بدلے میں انہیں دوسری ٹرم بھی مل گئی تھی، اب ٹرمپ بھی بہت خوش اور شاد ہیں، لیکن ہمارا سوال تو یہ ہے کہ وینزویلا کے عوام کی یہ رائے کس حد تک درست ہے کہ اس کارروائی میں وہاں کے جرنیلوں نے امریکیوں کا ساتھ دیا، اس سوال کا جواب ضرور ملنا چاہیے، کہ ایسا ہوا یا نہیں ہوا؟ اگر یہ رائے درست ہے تو پھر وہاں کے محافظوں کو کیا سزا ملے گی؟ کون سزا دے گا؟ وینزویلا کا قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے۔

ہمارا بھی ایک آئین ہے مگر ہمارا آئین تو بے چارہ ایوب خان کے ہاتھوں بھی پامال ہوا، پھر ضیاء الحق نے اسے معطل کیے رکھا، اس کے بعد جنرل مشرف نے بھی سوچا وہ کیوں پیچھے رہیں، لہٰذا وہ بھی آئے اور آئین معطل کرکے ملک کے چیف ایگزیکٹو بن گئے، اور انہیں مشورہ دینے والوں میں شریف الدین پیرزادہ پیش پیش تھے، حافظ حسین احمد انہیں جدہ کا جادو گر کہتے تھے، ہمارا تو اتنا کہنا ہے اور اس انتظار میں ہیں کہ اگر وقعی وینزویلا کے جرنیل ملوث نکلے تو انہیں کیا سزا ملے گی؟ امریکی صدر نے فاکس نیوز سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا ہے کہ وینزویلا کی قیادت کے لیے حزبِ اختلاف کی رہنما ماریا کورینا مچادو کے نام پر غور کرنا ہو گا۔ اصل میں تو کہانی بھی انہی سے شروع ہوتی ہے کہ جب انہیں امریکا مدعو کیا گیا استقبالیہ دیا گیا اور پھر آپریشن کیا گیا، ہوسکتا ہے کہ مادورو کو اب بین الاقوامی انصاف کا سامنا کرنا پڑے، مگر وہ لوگ جو ان کے محافظ تھے وہ انہیں بچانے میں کیوں ناکام رہے؟ دوسری جانب امریکی صدر ایران کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ ایران کے مختلف شہروں میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں شریک لوگوں کے خلاف اگر کوئی کارروائی کی گئی تو امریکا مداخلت کرے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم پوری طرح تیار ہیں۔ اللہ ہی خیر کرے۔

 

میاں منیر احمد.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ وینزویلا وینزویلا کے اس وقت کے وہاں کے اور اس

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران