Jasarat News:
2026-07-24@01:59:45 GMT

بھارت سے آزادی کی تحریکیں: ناگالینڈ سے خالصتان تک

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

بھارت جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلواتا ہے، اندر ہی اندر آزادی کی تحریکوں اور علٰیحدگی پسند آوازوں سے گھرا ہوا ہے۔ یہ تحریکیں بھارت کی قبضے کی پالیسیوں اور اقلیتوں پر ظلم کی وجہ سے جنم لے رہی ہیں۔ ناگالینڈ، منی پور، آسام، کشمیر، خالصتان اور دیگر علاقوں میں جاری جدوجہد کو کچلنے کے لیے بھارتی ریاست نے فوجی جبر، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کی ہیں۔ یہ مضمون بھارت کی ان مرکزی کمزوریوں کا جائزہ لیتا ہے، جو نہ صرف علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ بھارتی آئین کی بھی کھلی توہین ہیں۔ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں آزادی کی تحریکیں برسوں سے جاری ہیں۔ ناگالینڈ میں ناگا قوم آزادی کی جدوجہد کر رہی ہے، جہاں ناگالینڈ تحریک کے سربراہ نے بھارتی فوج کے جبر کے باوجود لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ منی پور میں نسلی تنازعات نے آزادی کی آگ بھڑکا دی ہے، جہاں حالیہ مہینوں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر اُتر آئے۔ آسام میں الگ ریاست یا خودمختاری کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے، جہاں بھارتی فورسز کی فائرنگ سے درجنوں شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

جموں و کشمیر بھارت کے خلاف آزادی کی سب سے نمایاں تحریک کا مرکز ہے۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کشمیریوں نے بھارتی قبضے کے خلاف مزاحمت کو تیز کر دیا۔ پاکستان کے موقف کے مطابق، کشمیر میں 1947 سے جاری جبر نے لاکھوں کشمیریوں کو شہید اور لاکھوں کو بے گھر کر دیا۔ خالصتان تحریک پنجاب میں دوبارہ سرگرم ہے، جہاں سکھ برادری بھارتی ریاست پر 1984 کے قتل عام کا بدلہ لینے پر تلی ہے۔ اس کے علاوہ، تامل ناڈو میں تامل آزادی کی آوازیں اُٹھ رہی ہیں، اور وسطی بھارت میں نکسل تحریک غریبوں کی بغاوت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ تمام تحریکیں بھارت کی وفاقی ساخت کی کمزوری کو عیاں کرتی ہیں، جہاں دہلی مرکزی کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔

بھارتی قابض افواج کا آزادی کی تحریکوں کو کچلنے والا ردِ عمل: ان تحریکوں کو کچلنے کے لیے بھارت نے فوجی طاقت کا بے رحمانہ استعمال کیا ہے۔ ناگالینڈ اور منی پور میں افسپا (Armed Forces Special Powers Act) نافذ ہے، جو فوج کو شہریوں کو گولی مارنے، گھر گھر تلاشی اور گرفتاریوں کی لامحدود اجازت دیتا ہے۔ آسام میں بھارتی فورسز نے احتجاجی مظاہروں پر فائرنگ کی، جس سے متعدد شہری شہید ہوئے۔ کشمیر میں بھارتی فوج نے آپریشنوں میں ہزاروں نوجوانوں کو شہید کر دیا، جبکہ خالصتان تحریک کے کارکنوں کو جعلی انکاؤنٹرز میں ختم کیا جاتا ہے۔ بھارت نے سرحدی علاقوں میں ڈرون حملے، میزائل تنصیبات اور فوجی مشقیں تیز کر دی ہیں تاکہ علٰیحدگی پسندوں کو دبانے کا پیغام دیا جائے۔ نکسل علاقوں میں سلوا جودیا نگری فورسز نے غریب قبائلیوں پر ظلم کیا، جہاں ہزاروں نکسل مزاحمت کاروں کو قتل کر دیا گیا۔ بھارتی حکومت نے انٹرنیٹ بلاک کیے، مواصلات کی بندش اور میڈیا سنسر شپ جیسے اقدامات بھی اٹھائے، جو آزادیِ رائے کی خلاف ورزی ہیں۔ یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت مذاکرات کے بجائے فوجی جبر کو ترجیح دیتا ہے۔ اس لیے کہ بھارت ان علاقوں پر جبراً قابض ہے وہ اس کے اپنے علاقے نہیں ہیں وہ وہاں کے عوام کی مرضی کے خلاف ان پر حکومت کر رہا ہے۔

خون اور آنسوؤں کی داستان: بھارت نے آزادی کی ان تحریکوں کو کچلنے کے لیے انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کی ہیں۔ کشمیر میں آئی این ایس کی رپورٹوں کے مطابق، ہزاروں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور تشدد کے واقعات رونما ہوئے۔ عالمی اداروں جیسے ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی فورسز پر خواتین کے ساتھ ریپ، ٹارچر اور بچوں پر ظلم کی رپورٹیں دی ہیں۔ ناگالینڈ میں فوجی آپریشنوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں عام ہیں، جبکہ منی پور میں نسلی صفائی یعنی نسل کشی کے الزامات لگے۔ خالصتان تحریک میں 1984 کے سکھ قتل عام کے بعد اب بھی سکھ عوام کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ نکسل علاقوں میں قبائلی عورتوں پر جنسی تشدد کے ساتھ ساتھ گاؤں جلا دینے کی رپورٹیں بھی موجود ہیں۔ آسام میں شہریوں پر فائرنگ اور گرفتاریاں انسانی حقوق کے عالمی ضابطوں کی توہین ہیں۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بھارت آزادی کی آواز بلند کرنے والی ریاستوں میں نسل کشی کی پالیسی پر عمل کررہا ہے، جہاں 1947 سے لے کر آج تک لاکھوں مسلمان، سکھ، ناگا اور دیگر اقلیتوں کا خون بہایا گیا۔ اقوام متحدہ اور عالمی فورموں پر یہ جرائم مسلسل اُجاگر کیے جا رہے ہیں، مگر بھارت اپنے اتحادیوں کی مدد سے انہیں دبا دیتا ہے۔ بھارت کی تقسیم کی فطری ہے دنیا کے سامنے یہ حقیقت کھل چکی ہے کہ بھارت ایک مصنوعی ملک ہے کہ جو مختلف قوموں، زبانوں اور مذاہب پر مبنی ہے۔ آزادی کی تحریکیں اس کی تقسیم کی فطرت کو ثابت کرتی ہیں۔ کشمیر میں خود ارادیت کا حق، ناگالینڈ میں الگ ملک کا مطالبہ، اور خالصتان کی جدوجہد بھارتی وحدت کے دعووں کو چیلنج کر رہے ہیں۔ بھارت کی فوجی طاقت اور انسانی حقوق کی پامالیاں عالمی برادری کو جگانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان سفارتی طور پر ان تحریکوں کی حمایت کرتا ہے اور خودمختاری کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔ اب بنگلا دیش بھی پاکستان کے ساتھ شامل ہوگیا۔

بھارتی میڈیا ان تحریکوں کو ’’دہشت گردی‘‘ کہہ کر بدنام کرتا ہے، مگر حقیقت میں یہ جبر کے خلاف مزاحمت ہیں۔ بھارت کی پالیسیاں نہ صرف علاقائی امن کو خطرے میں ڈالتی ہیں بلکہ ایٹمی جنگی خطرات بھی بڑھاتی ہیں۔ عالمی طاقتیں چاہیں تو بھارت پر دباؤ ڈال کر مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کے نتیجے میں ہونے والے ظلم کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ بھارت میں آزادی کی تحریکیں بڑھتی جا رہی ہیں، اور انہیں کچلنے کی بھارتی کوششیں انسانی حقوق کی لاشوں پر قائم ہیں۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کا یہ موقف ہے کہ آزادی کی خواہش مند ریاستوں پر سے بھارت کا قبضہ ختم ہونا چاہیے اور متاثرہ قوموں کو خود ارادیت کا حق ملنا چاہیے۔ ناگالینڈ، کشمیر، خالصتان اور دیگر علاقوں کے لوگ اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں، اور تاریخ گواہی دیتی ہے کہ جبر ہمیشہ شکست کھاتا ہے۔ عالمی برادری کو بھارت کے جرائم روکنے چاہییں تاکہ جنوبی ایشیا میں امن قائم ہو۔ یہ جدوجہد جاری رہے گی، اور بھارت کی تقسیم ناگزیر ہے۔

وجیہ احمد صدیقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا زادی کی تحریکیں انسانی حقوق کی ا زادی کی ا تحریکوں کو ان تحریکوں علاقوں میں کہ بھارت بھارت کی کو کچلنے کرتا ہے کے خلاف منی پور بھارت ا کر دیا کے لیے

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا