بھارت سے آزادی کی تحریکیں: ناگالینڈ سے خالصتان تک
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلواتا ہے، اندر ہی اندر آزادی کی تحریکوں اور علٰیحدگی پسند آوازوں سے گھرا ہوا ہے۔ یہ تحریکیں بھارت کی قبضے کی پالیسیوں اور اقلیتوں پر ظلم کی وجہ سے جنم لے رہی ہیں۔ ناگالینڈ، منی پور، آسام، کشمیر، خالصتان اور دیگر علاقوں میں جاری جدوجہد کو کچلنے کے لیے بھارتی ریاست نے فوجی جبر، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کی ہیں۔ یہ مضمون بھارت کی ان مرکزی کمزوریوں کا جائزہ لیتا ہے، جو نہ صرف علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ بھارتی آئین کی بھی کھلی توہین ہیں۔ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں آزادی کی تحریکیں برسوں سے جاری ہیں۔ ناگالینڈ میں ناگا قوم آزادی کی جدوجہد کر رہی ہے، جہاں ناگالینڈ تحریک کے سربراہ نے بھارتی فوج کے جبر کے باوجود لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ منی پور میں نسلی تنازعات نے آزادی کی آگ بھڑکا دی ہے، جہاں حالیہ مہینوں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر اُتر آئے۔ آسام میں الگ ریاست یا خودمختاری کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے، جہاں بھارتی فورسز کی فائرنگ سے درجنوں شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
جموں و کشمیر بھارت کے خلاف آزادی کی سب سے نمایاں تحریک کا مرکز ہے۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کشمیریوں نے بھارتی قبضے کے خلاف مزاحمت کو تیز کر دیا۔ پاکستان کے موقف کے مطابق، کشمیر میں 1947 سے جاری جبر نے لاکھوں کشمیریوں کو شہید اور لاکھوں کو بے گھر کر دیا۔ خالصتان تحریک پنجاب میں دوبارہ سرگرم ہے، جہاں سکھ برادری بھارتی ریاست پر 1984 کے قتل عام کا بدلہ لینے پر تلی ہے۔ اس کے علاوہ، تامل ناڈو میں تامل آزادی کی آوازیں اُٹھ رہی ہیں، اور وسطی بھارت میں نکسل تحریک غریبوں کی بغاوت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ تمام تحریکیں بھارت کی وفاقی ساخت کی کمزوری کو عیاں کرتی ہیں، جہاں دہلی مرکزی کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔
بھارتی قابض افواج کا آزادی کی تحریکوں کو کچلنے والا ردِ عمل: ان تحریکوں کو کچلنے کے لیے بھارت نے فوجی طاقت کا بے رحمانہ استعمال کیا ہے۔ ناگالینڈ اور منی پور میں افسپا (Armed Forces Special Powers Act) نافذ ہے، جو فوج کو شہریوں کو گولی مارنے، گھر گھر تلاشی اور گرفتاریوں کی لامحدود اجازت دیتا ہے۔ آسام میں بھارتی فورسز نے احتجاجی مظاہروں پر فائرنگ کی، جس سے متعدد شہری شہید ہوئے۔ کشمیر میں بھارتی فوج نے آپریشنوں میں ہزاروں نوجوانوں کو شہید کر دیا، جبکہ خالصتان تحریک کے کارکنوں کو جعلی انکاؤنٹرز میں ختم کیا جاتا ہے۔ بھارت نے سرحدی علاقوں میں ڈرون حملے، میزائل تنصیبات اور فوجی مشقیں تیز کر دی ہیں تاکہ علٰیحدگی پسندوں کو دبانے کا پیغام دیا جائے۔ نکسل علاقوں میں سلوا جودیا نگری فورسز نے غریب قبائلیوں پر ظلم کیا، جہاں ہزاروں نکسل مزاحمت کاروں کو قتل کر دیا گیا۔ بھارتی حکومت نے انٹرنیٹ بلاک کیے، مواصلات کی بندش اور میڈیا سنسر شپ جیسے اقدامات بھی اٹھائے، جو آزادیِ رائے کی خلاف ورزی ہیں۔ یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت مذاکرات کے بجائے فوجی جبر کو ترجیح دیتا ہے۔ اس لیے کہ بھارت ان علاقوں پر جبراً قابض ہے وہ اس کے اپنے علاقے نہیں ہیں وہ وہاں کے عوام کی مرضی کے خلاف ان پر حکومت کر رہا ہے۔
خون اور آنسوؤں کی داستان: بھارت نے آزادی کی ان تحریکوں کو کچلنے کے لیے انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کی ہیں۔ کشمیر میں آئی این ایس کی رپورٹوں کے مطابق، ہزاروں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور تشدد کے واقعات رونما ہوئے۔ عالمی اداروں جیسے ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی فورسز پر خواتین کے ساتھ ریپ، ٹارچر اور بچوں پر ظلم کی رپورٹیں دی ہیں۔ ناگالینڈ میں فوجی آپریشنوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں عام ہیں، جبکہ منی پور میں نسلی صفائی یعنی نسل کشی کے الزامات لگے۔ خالصتان تحریک میں 1984 کے سکھ قتل عام کے بعد اب بھی سکھ عوام کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ نکسل علاقوں میں قبائلی عورتوں پر جنسی تشدد کے ساتھ ساتھ گاؤں جلا دینے کی رپورٹیں بھی موجود ہیں۔ آسام میں شہریوں پر فائرنگ اور گرفتاریاں انسانی حقوق کے عالمی ضابطوں کی توہین ہیں۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بھارت آزادی کی آواز بلند کرنے والی ریاستوں میں نسل کشی کی پالیسی پر عمل کررہا ہے، جہاں 1947 سے لے کر آج تک لاکھوں مسلمان، سکھ، ناگا اور دیگر اقلیتوں کا خون بہایا گیا۔ اقوام متحدہ اور عالمی فورموں پر یہ جرائم مسلسل اُجاگر کیے جا رہے ہیں، مگر بھارت اپنے اتحادیوں کی مدد سے انہیں دبا دیتا ہے۔ بھارت کی تقسیم کی فطری ہے دنیا کے سامنے یہ حقیقت کھل چکی ہے کہ بھارت ایک مصنوعی ملک ہے کہ جو مختلف قوموں، زبانوں اور مذاہب پر مبنی ہے۔ آزادی کی تحریکیں اس کی تقسیم کی فطرت کو ثابت کرتی ہیں۔ کشمیر میں خود ارادیت کا حق، ناگالینڈ میں الگ ملک کا مطالبہ، اور خالصتان کی جدوجہد بھارتی وحدت کے دعووں کو چیلنج کر رہے ہیں۔ بھارت کی فوجی طاقت اور انسانی حقوق کی پامالیاں عالمی برادری کو جگانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان سفارتی طور پر ان تحریکوں کی حمایت کرتا ہے اور خودمختاری کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔ اب بنگلا دیش بھی پاکستان کے ساتھ شامل ہوگیا۔
بھارتی میڈیا ان تحریکوں کو ’’دہشت گردی‘‘ کہہ کر بدنام کرتا ہے، مگر حقیقت میں یہ جبر کے خلاف مزاحمت ہیں۔ بھارت کی پالیسیاں نہ صرف علاقائی امن کو خطرے میں ڈالتی ہیں بلکہ ایٹمی جنگی خطرات بھی بڑھاتی ہیں۔ عالمی طاقتیں چاہیں تو بھارت پر دباؤ ڈال کر مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کے نتیجے میں ہونے والے ظلم کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ بھارت میں آزادی کی تحریکیں بڑھتی جا رہی ہیں، اور انہیں کچلنے کی بھارتی کوششیں انسانی حقوق کی لاشوں پر قائم ہیں۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کا یہ موقف ہے کہ آزادی کی خواہش مند ریاستوں پر سے بھارت کا قبضہ ختم ہونا چاہیے اور متاثرہ قوموں کو خود ارادیت کا حق ملنا چاہیے۔ ناگالینڈ، کشمیر، خالصتان اور دیگر علاقوں کے لوگ اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں، اور تاریخ گواہی دیتی ہے کہ جبر ہمیشہ شکست کھاتا ہے۔ عالمی برادری کو بھارت کے جرائم روکنے چاہییں تاکہ جنوبی ایشیا میں امن قائم ہو۔ یہ جدوجہد جاری رہے گی، اور بھارت کی تقسیم ناگزیر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا زادی کی تحریکیں انسانی حقوق کی ا زادی کی ا تحریکوں کو ان تحریکوں علاقوں میں کہ بھارت بھارت کی کو کچلنے کرتا ہے کے خلاف منی پور بھارت ا کر دیا کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔