سائبر خطرات تدارک کیلئے این سی آئی آرٹیم‘ عالمی کمپنی کیسپرسکی میں معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسلام آباد(خبرنگا ر+این این آئی)وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ کی موجودگی میںپاکستان نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم اور عالمی سائبر سکیورٹی کمپنی کیسپرسکی کے مابین معاہدہ طے پا گیا ۔معاہدہ کے تحت سائبر خطرات کی شناخت، انکے تدارک اور روک تھام کیلئے باہمی تعاون کو فروغ دیا جائےگا۔حکومت پاکستان کی جانب سے ڈی جینیشنل سرٹ ڈاکٹر حیدر عباس(تمغہ امتیاز)اور کیسپرسکی کے جنرل منیجر برائے مشرقِ وسطی اور پاکستان راشد المومنی نے دستخط کیے ، کیسپرسکی کے سی ای او یوجین کیسپرسکی بھی موجود تھے۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے مقابلہ کےلئے نوجوانوں کو تیار کرنا ہوگا، حکومت نوجوانوں کےلئے اقدامات کر رہی ہے۔ معرکہ حق میں نوجوانوں نے سائبر سکیورٹی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس سال فری لانسننگ شعبے میں 91فیصد اضافہ ہو ا۔ او آئی سی کامسٹیک کے زیر اہتمام 19ویں براق سپیس کیمپ کی اختتامی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے انہوں نے کہا براق سپیس کیمپ 29دسمبر 2025 ءکو کامسٹیک سیکرٹریٹ میں شروع ہوا ،40شارٹ لسٹ طلبہ نے تربیت مکمل کی ۔شزافاطمہ نے کہا نوجوانوں کوآئی ٹی کے تربیتی کورسز کرائے جا رہے ہیں، کوشش ہے کہ نوجوانوں کو معاشی طور پر خودمختار بنا ئیں۔کچھ مہینوں میں 5جی انٹرنیٹ سروس کو لانچ کیا جارہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔