بھارت‘ جنونی ہندوؤں کا مسلم بزرگ پر بہیمانہ تشدد
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-01-7
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاست راجستھان میں ہندوتوا کے کارکنوں نے ایک بزرگ شہری کو تشدد کا نشانہ بنایا اور نیم مردہ حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی ریاست راجستھان جہاں مودی سرکار کی حکومت قائم ہے، ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے۔ ریاست راجستھان کے ایک گائوں میں ہندوتوا کے جنونی دہشت گردوں نے ایک نامعلوم مسلم بزرگ شخص کو نہایت تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان بے لگام حملہ آوروں نے مسلم بزرگ پر پہلے تو گائے کا گوشت کھانے کا الزام لگایا اور زمین پر گھسیٹتے رہے تاہم جب کوئی ثبوت نہ ملا تو نیا الزام گھڑ لیا۔ ہندوتوا کے غنڈوں نے مسلم بزرگ شہری سے شناختی اور ادھار کارڈ مانگا اور پھر انہیں روہنگیا یا بنگلا دیش سے بھارت میں دراندازی کے لیے داخل ہونے کا الزام بھی عاید کیا۔ وائرل وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بزرگ شخص زمین پر بے بسی کے عالم میں پڑے ہوئے ہیں اور8 سے 10 نوجوان اس کے گرد کھڑے ہو کر لاتیں اور گھونسے مار رہے ہیں۔چند ایک نے تو ادھ موئے بزرگ پر لاٹھیاں بھی برسائیں اور تھپڑ بھی مارے۔ حملہ آور لگاتار بزرگ شہری کو مغلظات بھی بکتے رہے۔ مسلم بزرگ کو مردہ سمجھ کر ہندوتوا کے جنونی دہشت گرد جے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے جائے وقوع سے فرار ہوگئے۔علاقہ مکینوں نے مسلم بزرگ کو نیم مردہ حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا، جہاں ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہندوتوا کے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔