راجستھان، گاؤ ماتارکشا بہانہ، جنونی ہندوؤں کا مسلم بزرگ پر بہیمانہ تشدد
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
بھارت(ویب ڈیسک) ریاست راجستھان میں ہندوتوا کے کارکنوں نے ایک بزرگ شہری کو تشدد کا نشانہ بنایا اور نیم مردہ حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی ریاست راجستھان، جہاں مودی سرکار کی حکومت قائم ہے، ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے۔
ریاست راجستھان کے ایک گاؤں میں ہندوتوا کے جنونی دہشت گردوں نے ایک نامعلوم مسلم بزرگ شخص کو نہایت تشدد کا نشانہ بنایا۔
ان بے لگام حملہ آوروں نے مسلم بزرگ پر پہلے تو گائے کا گوشت کھانے کا الزام لگایا اور زمین پر گھسیٹتے رہے تاہم جب کوئی ثبوت نہ ملا تو نیا الزام گھڑ لیا۔
ہندوتوا کے غنڈوں نے مسلم بزرگ شہری سے شناختی اور آدھار کارڈ مانگا اور پھر انھیں روہنگیا یا بنگلا دیش سے بھارت میں دراندازی کے لیے داخل ہونے کا الزام بھی عائد کیا۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بزرگ شخص زمین پر بے بسی کے عالم میں پڑے ہوئے ہیں اور 8 سے 10 نوجوان اس کے گرد کھڑے ہو کر لاتیں اور گھونسے مار رہے ہیں۔
چند ایک نے تو ادھ موئے بزرگ پر لاٹھیاں بھی برسائیں اور تھپڑ بھی مارے۔ حملہ آور لگاتار بزرگ شہری کو مغلظات بھی بکتے رہے۔
مسلم بزرگ کو مردہ سمجھ کر ہندوتوا کے جنونی دہشت گرد جے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے۔
علاقہ مکینوں نے مسلم بزرگ کو نیم مردہ میں قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ بھارت میں مودی سرکار کے مسلسل دوسرے دورِ اقتدار میں اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے۔
ہندوستان کو اکھنڈ بھارت بنانے کے لیے ہندوتوا ازم کو فروغ دیا جا رہا ہے اور کبھی گاؤ ماتا کی رکھشا تو کبھی کسی بھگوان کی جنم بھومی کے نام پر مسلمانوں کی زندگیوں اور املاک کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔