مذاکرات کی بات 5بڑوں کی ملاقات تک آ گئی تو اسے نہ ہی سمجھا جائے،چیئرمین پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-01-20
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ مذاکرات کی بات اگر 5بڑوں کی ملاقات تک آ گئی ہے تو اسے نہ ہی سمجھا جائے، حالات معمول پر لانے کی بھاری قیمت مانگی جا رہی ہے،ملاقاتوں کو متنازع بنا کر بات کیسے آگے بڑھے گی؟8 فروری کو ملک بھرمیں ہڑتال ہو گی جبکہ حکومت خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ 5 بڑوں میں مینڈیٹ صرف عمران خان کے پاس ہے، نواز و شہباز بااختیار نہیںاسٹیبلشمنٹ کے تابع ہیں، اسٹریٹ موومنٹ بڑی عوامی تحریک بن چکی ۔ تفصیلات کے مطابق پارٹی کے بانی عمران خان سے ملاقات کے لیے جانے کے موقع پر داہگل ناکا اڈیالا روڈ پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ مذاکرات کی بات اگر 5بڑوں کی ملاقات تک آ گئی ہے تو اسے نہ ہی سمجھا جائے کیونکہ نہ 5 بڑے ملاقات کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ملاقاتیں ہی نہیں کرنے دی جاتیں تو مذاکرات کیسے ہوں گے؟ایک ماہ سے زاید عرصہ ہو چکا ہے بانی سے کسی کی ملاقات نہیں ہوئی۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ملاقاتوں کو متنازع بنا کر بات کہاں سے آگے بڑھے گی، حالات معمول پر لانے کی بھاری قیمت مانگی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جتنی کوشش کی حالات ٹھیک ہوں دوسری طرف سے اتنی ہی کوشش حالات خراب کرنے کے لیے کی گئی۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی اور ان کی جماعت کی سب سے بڑی قوت اس کے ورکرز ہیں۔ ریاست نے جتنی سختیاں کیں کارکنان نے برداشت کی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 8 فروری کو پورے ملک میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہو گی اور بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حالات معمول پر لانے کے لیے عمران خان سے ان کی بہنوں اور وکلا کی ملاقات ضروری ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اچکزئی صاحب اور علامہ صاحب کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ جو لوگ حالات کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں ان کی ستائش ہونی چاہیے۔ بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ عمران اسماعیل کا انہیں بھی فون آیا تھا۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ ہم اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوں گے کیونکہ پارٹی کو اس پر تحفظات ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اسٹریٹ موومنٹ کے حوالے سے بانی کی ہدایات ہیں۔ پارٹی کی کوئی کمیٹی ان ہدایات کو نظر انداز نہیں کر سکتی، احتجاج ہمارا حق ہے اور پارٹی کا لائحہ عمل موجود ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم نے کبھی مذاکرات کال آف نہیں کیے لیکن 5 بڑوں کی بات کرنے کی کوئی منطق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سے توقع ہے کہ سندھ میں جلسے کی اجازت دی جائے گی۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو پورا پروٹوکول دینے کی بات کی تائید کرتے ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ سینیٹر علی ظفر کو بانی کا اعتماد حاصل ہے جبکہ ابڑو صاحب کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے کبھی کوئی چیز سبوتاژ نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں تب تک عہدے پر ہوں جب تک بانی کا اعتماد حاصل ہے۔ علاوہ ازیں خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان نے حکومت کو بے اختیار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے 5 بڑوں میں مینڈیٹ صرف عمران خان کے پاس ہے جبکہ نواز شریف اور شہباز شریف بااختیار نہیں ہیں۔راولپنڈی میں اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان حکومت خیبرپختونخوا شفیع جان نے کہا کہ مذاکرات کے لیے اعتماد کی فضا ضروری ہے، ذمے داری حکومت پر زیادہ ہے، نواز شریف اور شہباز شریف با اختیار نہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے تابع ہیں اور 5 بڑوں میں واحد حقیقی مینڈیٹ بانی پی ٹی آئی کے پاس ہے، بانی پی ٹی آئی کی قیادت میں پارٹی ایک مضبوط قوت ہے۔ شفیع جان نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کی مذاکرات سے متعلق بیان مذاق کے مترادف ہے، احتجاج سے روکنے کے لیے 9 مئی کے مقدمات بطور دباؤ استعمال ہو رہے ہیں، 9 مئی کے کیسز ایک فالز فلیگ آپریشن ثابت ہوتے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ ٹو کا فیصلہ عدالتی عمل پر سوالیہ نشان ہے، 59 صفحات کا فیصلہ جونیئر وکیل کے ذریعے سنا دینا تماشا ہے، مذاکرات کی بات تب کی جاتی ہے جب پی ٹی آئی کی تحریک مومنٹم پکڑتی ہے۔شفیع جان نے کہا کہ اسٹریٹ موومنٹ کی قیادت سہیل آفریدی کر رہے ہیں اور ان کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں پی ٹی آئی کی سرگرمیوں پر کرفیو جیسی صورت حال پیدا کی گئی ہے، لنڈا بازار میں دکانیں بند کر کے 80 افراد پر مقدمات بنائے گئے اور ہمیں آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں حکومت سندھ کا رویہ خوش آئند ہے، سندھ میں آئینی اور قانونی حق کے تحت سیاسی سرگرمیاں کریں گے، اسٹریٹ موومنٹ ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیئرمین پی ٹی ا ئی انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی بات بیرسٹر گوہر نے اسٹریٹ موومنٹ پی ٹی ا ئی کی شفیع جان نے کہ مذاکرات کی ملاقات کا کہنا ہیں اور بڑوں کی رہے ہیں کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔