بات چیت اس پر ہونی چاہیئے پارلیمینٹ بالا دست ہوگی،محمود خان اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
(سٹی 42)تحریک تحفظ آئین کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا ہےکہ بات چیت اس پر ہونی چاہیئے پارلیمینٹ بالا دست ہوگی،مذاکرات کس چیز پر کرنے ہیں 8 فروری کو 25 کروڈ عوام کی رائے بدل دیا گیا،جو جیتے انکو ہرایا گیا جو ہارے انکو جتایا گیا،اگر 8 فروری سے کوئی بات کرنا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں۔تحریک تحفظ آئین کے رہنما سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کاکہنا ہے کہ یہ کہتے ہیں ہم بلیک میل نہیں ہونگے کیا عوام کے حق حکمرانی کی بات کرنا بلیک میلنگ ہے،ہم چاہتے ہیں ہر کوئی اپنی آئینی حدود میں واپس چلا جائے۔
ملک میں سیمنٹ کی بوری سستی ہوگئی
تفصیلات کے مطابق اڈیالہ جیل روڈ کے ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےتحریک تحفظ آئین کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ہم کسی کے خلاف نہیں ہم مضبوط فوج چاہتے ہیں۔جس طرح دنیا کے باقی ممالک کی افواج کام کرتی ہیں اسی طرح ہمارے فوج بھی کام کرے۔سیاسی جماعتوں کا تحفظ بھی اسی میں ہے، آئین کے مطابق بات چیت کریں۔بات چیت اس پر ہونی چاہیئے پارلیمینٹ بالا دست ہوگی۔ہم بار بار کہہ رہے ہیں یہ خطہ میدان جنگ بننے جارہا ہے۔کچھ دن پہلے ایک ملک کے سربراہ کو اسکی بیوی سمیت بیڈ روم سے اٹھایا گیا۔مذاکرات اس بات پر ہوگی اس پارلیمیٹ کی چھٹی کرنی ہوگی۔مذاکرات اس بات پر ہوگی ایک انٹرم حکومت قائم کی جائے۔عبوری حکومت الیکشن کمشنر کی تعیناتی کرے گی اور الیکشن کرایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ8 فروری کو ہم نے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔پورے پاکستان میں ہمارے ورکرز اپنے اپنے علاقوں میں آواز بلند کرینگے۔ہم تاجروں، رکشے والوں ٹریڈ یونینز کو احتجاج میں شریک کرینگے۔ہمارا مطالبہ جمہوری پاکستان کی تعمیر نو ہے۔بانی کی بہنیں یہاں آتی ہیں کون سا آسمان گر پڑتا ہے۔ملاقاتوں کے حوالے سے عدالتی احکامات ہیں پھر بھی واٹر کینن چلائے جارہے ہیں۔ہمارا نعرہ ہے ہم ظلم مٹانے نکلے ہیں آؤہمارے ساتھ چلو۔ہم کسی کو گالی نہیں دینگے نہ کسی پر پتھر پھینکیں گے۔ہم اڈیالہ جیل بانی کی بہنوں سے اظہار یکجہتی کیلئے آئے ہیں۔دنیا میں بدترین مجرمان کو ملاقات کی سہولت دی جاتی ہے۔بانی کی فیملی کا حق ہے ملاقات کرنے کا۔ایک صوبے کا وزیراعلٰی اپنے لیڈر سے ملنا چاہتا ہے ہدایات لینا چاہتا ہے۔اگر ایران پر حملہ ہوا، ہم کہاں کھڑے ہونگے۔ہمیں اپنے ہمسایوں کے ساتھ احتیاط سے آگے بڑھنا ہوگا۔ہم کیوں ہمسایوں کے ساتھ لڑائی جھگڑے پر اتر آئے ہیں۔ہم اپیل کرتے ہیں ساری عوام 8 فروری کو گھروں سے نکلیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم کسی کو یہ نہیں بتائیں گے کون کہاں سے نکلے گا۔26 نومبر کو کیا ہوا لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں۔بانی ہی ٹی آئی پاکستان کا پاپولر لیڈر ہے۔اگر بانی پی ٹی آئی برا تھا تو آپ نے انکو وزیر اعظم کیوں بنایا۔ہم نے پی ڈی ایم بنائی اور انہوں نے درمیان میں این آر او کردیا۔اگر غلطی بانی پی ٹی آئی کی ہیں تو ہمیں ملنے دیں ہم انکو بتائینگے۔اگر غلطی آپ کی ہے تو کیا آپ اپنے کئے پر پشیماں ہونگے۔ہم چاہتے ہیں جو غلطیاں ہوئی ہیں انکو سدھارنے کیلئے آکے بیٹھ جائیں۔آج ڈی جی آئی ایس پی آر نے خود کہا ہمیں سیاست میں نہ گھسیٹو۔اگر وہ سیاست میں مداخلت نہیں کرینگے تو اصل طاقت عوام کی طاقت کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔سرمایہ دار اور نوجوان ملک سے بھاگ رہے ہیں ہمیں توبہ کرنی چاہیئے۔
اس موقع پر سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ ہم پاکستان کے متفقہ آئین کی بحالی چاہتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں ہر کوئی اپنی آئینی حدود میں واپس چلا جائے۔پاکستان آگے نہیں بڑھ رہا ہے ان سے ملک نہیں چل رہا۔امن و امان کے مسائل بڑھتے جارہے ہیں مہنگائی بڑھ رہی ہے۔موجودہ حکمرانوں کو عوام نے منتخب نہیں کیا ہے۔یہ کہتے ہیں ہم بلیک میل نہیں ہونگے کیا عوام کے حق حکمرانی کی بات کرنا بلیک میلنگ ہے۔آئی ایم ایف نے بھی کہہ دیا ہے 5 ہزار 300 ارب کی کرپشن ہوئی ہے۔دنیا کے حالات بدل رہے ہیں ہمیں اپنا گھر ان آرڈر کرنا چاہئے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام کی نفرت بڑھتی جارہی ہے۔ہماری طرف سے کوئی شرائط نہیں۔ہم آئین کی بحالی، رول آف لاء اورشفاف انتخابات کی بات کررہے ہیں۔پاکستان میں ادارے اپنی ساکھ کھو رہے ہیں۔
گیس صارفین کے لیے اچھی خبر،گیس مہنگی نہیں ہوگی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس اڈیالہ جیل میڈیا گفتگو محمود خان اچکزئی اڈیالہ جیل محمود خان اچکزئی سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس میڈیا گفتگو محمود خان اچکزئی چاہتے ہیں بات چیت رہے ہیں آئین کے ہیں ہم
پڑھیں:
پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں