data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260107-01-28
راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک،خبر ایجنسیاں) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا ہے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتیں اور سکیورٹی فورسز کا ایک ہی بیانیہ ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بیانیے سے کوئی ہمیں ٹس سے مس نہیں کر سکتا۔جی ایچ کیو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا افغان طالبان، خوارج اور ہندوستان گٹھ جوڑ 2025 میں کھل کر سامنے آئے، اس سال کچھ اور باریک وارداتیے بھی سامنے آئے ہیں، بھارتی ٹی وی پر بیٹھ کر ایک صاحب کہتے ہیں کہ اس بار افغانستان اور بھارت ملکر پاکستان پر حملہ کریں گے، افغانستان اور ہندوستان آ جائیں، ان کا شوق پورا کر دیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردوں سے جھڑپوں کے دوران طالبان کا نام نہاد وزیر خارجہ کہاں تھا؟ ان کا اسلام کہتا ہے کہ ہندوستانیوں کے پاؤں پڑ جاؤ ، افغانستان میں کوئی حکومت نہیں ہے بلکہ ایک چھوٹا سا گروہ قابض ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہے اور ایک صوبے کی حکومت کہتی ہے کہ ہم وہاں آپریشنز نہیں ہونے دیں گے تو کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ جس طرح سوات میں ان دہشتگردوں نے ہزاروں افراد کو شہید کیا یہ دوبارہ سے ایسا ہی دہشتگردی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ وزیر اعلیٰ فرما رہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے ، یہ فرما رہے ہیں کہ کابل ہماری سکیورٹی گارنٹی کرے ، یہ کونسی تسکین کی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے کہتے ہو ہماری مدد کریں، وزیر اعلیٰ کے پی ایک مضحکہ خیز بات کرتے ہیں، کے پی کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے، کیا خارجی نور ولی محسوس کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے، اس کی بیعت کر لی جائے، کیا ہبت اللہ بتائیں گے چارسدہ میں کیا ہوگا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ واراکانومی کے لیے دہشتگردی پورے خطے میں پھیلائی جاتی ہے، افغانستان کو واراکانومی کی عادت پڑ چکی ہے، پولیس لائن مسجد پشاور میں خودکش حملہ ہوا، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پشاور کا دورہ کیا اور خطاب میں کہا خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، فیلڈ مارشل نے کہا یہ اللہ کا حکم ہے، خوارج جہاں ملیں انکومادو۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا ہے دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے جس کی وجہ یہ ہے کہ کے پی میں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے 2025 میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے متعلق سینئر صحافیوں کو بریف کر تے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال دہشتگردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کیے گئے، پچھلے سال 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے اور دہشتگردی کے 5400 واقعات ہوئے جب کہ قانون نافذ کرنے والے اور سویلینز کی شہادت 1235 سے ہے۔ انہوںنے بتایا کہ اس سال کل 5 ہزار 397 انسداد دہشتگردی آپریشن کیے گئے، سب سے اہم سوال کہ 80 فیصد دہشتگردی کے واقعات خیبر پختونخوا میں ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سال 2025 میں 2597 دہشتگرد مارے گئے، گزشتہ سال سب سے زیادہ دہشتگردی کے واقعات خیبر پختونخوا میں کیوں ہوئے، خیبرپختونخوا میں زیادہ دہشتگردی کی وجہ وہاں دہشتگردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے۔ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ معرکہ حق اور اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر جھڑپیں ہوئیں، معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا کیاگیا اور انہیں سبق سکھایاگیا، پاک افغان بارڈر پر دہشتگردوں پر حملے کیے گئے، افغان طالبان رجیم نے پاکستانی پوسٹس پر حملہ کیے ، پھر جو ضروری تھا وہ کیاگیا اور ایک ہارڈ میسج دیا گیا، آخری تین مہینوں میں ہم نے بارڈر بند کردیے، دیکھنے والوں اورسمجھنے والوں کے لیے یہاں بھی کئی نشانیاں ہیں، دہشتگردی کا ناسور کا 5، 10 فیصد کہیں اور آیا تو ریاستیں قائم نہیں رہ سکیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دنیا نے دیکھا کہ معرکہ حق میں ہندوستان کا منہ کالا کیا گیا، بھارت نے معرکہ حق کے بعد دہشتگردی کو خوب ہوا دی، اکتوبر 2025 میں دہشتگردوں پر پاک افغان بارڈر پر حملے کیے گئے، گھنٹوں میں درجنوں افغان پوسٹوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے نام نہاد سندور آپریشن میں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا ، ہندوستان کون ہوتا ہے کہ ہمارے کسی شہری کو نشانہ بنائے ، یہ حق ہندوستان کوکسی نے نہیں دیا کہ وہ پاکستان کے کسی شہری یا انفرا اسٹرکچرکو نقصان پہنچائے، ہندوستان کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جا رہی۔ان کا کہنا تھا ہم نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کو نہ کہ ٹی ٹی اے کو نشانہ بنایا، ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ کون کون دہشتگرد ہیں اورکہاں کہاں کس کو جگہ دے رہے ہیں، بنیادی ٹارگٹ کون ہے،اس پر نظر ڈالیں تو 10 بڑے واقعات نظر آتے ہیں، دہشتگردوں نے سویلین اور سافٹ ٹارگٹس پر حملے کیے، یہ تمام دہشتگردانہ حملے افغانیوں نے کیے۔انہوں نے کہا کہ ایک بیانیہ بنایاجاتا ہے کہ پاکستان فوج ڈرون استعمال کرتی ہے، ان کا سرپرست اعلیٰ ہندوستان ان کو ہر چیز فراہم کرتا ہے، خارجیوں نے مسلح آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرنا شروع کیا، یہ مساجد، عوامی جگہوں اور گھروں کو استعمال کرتے ہیں، خارجیوں کا ایک خاص ونگ آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرتا ہے، سرویلنس کے لیے ڈرونز کا استعمال ہوتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ خوارج مساجد میں بیٹھ کر کواڈ کاپٹرز دہشتگردی کے لیے استعمال کرتے ہیں، خوارج بچوں اور خواتین کو ڈھال بنا کر دہشتگردی کرتے ہیں، پاک فوج صرف دہشتگردوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق ہمارے نزدیک دہشتگرد کا کوئی رنگ یا شیڈ نہیں، ہمیں کسی دہشتگرد سے کوئی ہمدردی نہیں، دہشتگردوں کا ایک باپ افغان طالبان ہے، ہم حق پر ہیں اور حق نے غالب آنا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں اسد قیصر کا کلپ اور عمران خان کے ٹوئٹس چلا دیے اور کہا کہ آپ غور سے سنیں فوج وفاقی حکومت کا ادارہ ہے، ہمیں پاکستان کی سلامتی کی حفاظت کا آئینی حکم ہے، آپ کو یہ کوئی اجازت نہیں دیتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے اپنے علاقوں کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیں۔طالبان سے مذاکرات اور انہیں واپس خیبر پختونخوا میں لائے جانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بیانیہ مضحکہ خیز ہے کہ ہم بے اختیار تھے، وہ جو اْس وقت وزیر اعظم تھا، جو اپنی پارٹی کو ڈکٹیٹر کے طور پر چلاتا ہے، وہ جس چیز کے پیچھے پڑ جاتا ہے، پڑ جاتا ہے کہ دہشتگردوں سے بات چیت کرو، اْس وقت کے ڈی جی آئی کہاں ہیں اِس وقت، جنہیں انہوں نے اپنی سیاست کیلیے استعمال کیا، وہ بااختیار وزیر اعظم تھا، وہ اتنا بااختیار تھا کہ اس نے آرمی چیف کو قوم کا باپ قرار دیا، ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ قوم کا ایک ہی باپ قائداعظم محمد علی جناح ہے، اس نے وہ کیا جو کسی نے نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ساری پارٹی ایک بندے کے اردگرد گھومتی ہے، وہ جس چیز کے پیچھے پڑ جائے پڑ جاتا ہے، ڈی جی آئی کو سیاست کے لیے استعمال کیا گیا، ادارے کا کوئی تعلق نہیں، شخصیات کا کھیل تھا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا جب دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو یہاں موجود کچھ باریک وارداتییے ان کی حمایت میں سامنے آجاتے ہیں، ان میں سے ایک ناروے میں بیٹھا ہے، یہ (ایمان مزاری) خود کو ہیومن رائٹس ایکٹیویسٹ کہتی ہیں، ایک پروفیسر عثمان قاضی کی دہشتگردی پر سوشل میڈیا پر بیانیہ بنایا، ان سب کی ڈوریاں باہر سے چل رہی ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے وزیر اعلی کے پی سہیل آفریدی کا مساجد میں کتے باندھنے سے متعلق نشر کیا اور کہا یہ صاحب مضحکہ خیز بات چیت کیوں کرتے ہیں، کیونکہ جب کوئی لاجگ اور آرگیومنٹ نہ ہو تو ایسی ہی بات چیت کرنی ہے جس کا نہ کوئی سر ہے، نہ پیر، نہ آگے، نہ پیچھے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ جس سیاسی جماعت نے بات کرنی ہے حکومت سے کرے، ہمارا کام سیاسی جماعتوں سے بات کرنا نہیں، ہمیں کسی سیاسی جماعت سے کوئی ایشونہیں ہے، سیاست، سیاسی جماعتوں کا کام ہے وہ کوئی حل نکالیں گے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ سوشل میڈیا کودہشت گردی کے فروغ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، ریاست نے سوشل میڈیا کیخلاف کچھ اچھے قوانین بنائے ہیں، خیبرپختونخوا میں غربت کا بھی مسئلہ ہے، بلوچستان حکومت نے ضلعی، تحصیل لیول پر پیسے کو منتقل کیا۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف انہوں نے کہا کہ ان کا کہنا تھا وزیر اعلی کرتے ہیں معرکہ حق بتایا کہ کو نشانہ رہے ہیں سے کوئی پاک فوج جاتا ہے کیے گئے تھا کہ کے لیے کا ایک ہیں کہ

پڑھیں:

گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال

فائل فوٹو

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔

گلگت میں جیو نیوز سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کا ریکارڈ ہے، جس کا مقابلہ کوئی جماعت نہیں کرسکتی۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تمام جماعتیں اور ان کے لیڈرز انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اگر کوئی جماعت یہ کہتی ہے کہ اسے حصہ نہیں لینے دیا جارہا تو وہ اپنی شکست کا بہانہ تلاش کررہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی