عوامی نمائندوں، کارکنوں کی نشاندہی پر مسائل کا بروقت ازالہ ترجیح: فیصل کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبر پی کے فیصل کریم کنڈی سے پیپلز پارٹی کے رہنماء قسمت اللہ خان مروت کی قیادت میں لکی مروت سے تعلق رکھنے والے وفد نے کنڈی ماڈل فارم ڈیرہ اسماعیل خان میں ملاقات کی۔ تر جمان کے مطابق وفد میں پارٹی رہنماء جاوید اقبال ایڈووکیٹ، فقیر محمد، نیو خان اور اعجاز احمد وزیر شامل تھے۔ وفد نے گورنر خیبر پی کے کو لکی مروت میں وفاقی محکموں سے متعلق درپیش مسائل سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور عوام کو پیش آنے والی مشکلات پر توجہ دلائی۔ فیصل کریم کنڈی نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ وفاقی محکموں سے متعلق مسائل کے حل کیلئے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جائے گا۔ عوامی نمائندوں اور پارٹی کارکنوں کی نشاندہی پر مسائل کا بروقت ازالہ ان کی ترجیح ہے۔ گورنر نے کہاکہ ڈی آئی خان میں 2 روز اوپن پبلک ڈے کا مقصد عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنا ہے، کنڈی ماڈل فارم عوامی رابطے کی علامت ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔