عوامی نمائندوں، کارکنوں کی نشاندہی پر مسائل کا بروقت ازالہ ترجیح: فیصل کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبر پی کے فیصل کریم کنڈی سے پیپلز پارٹی کے رہنماء قسمت اللہ خان مروت کی قیادت میں لکی مروت سے تعلق رکھنے والے وفد نے کنڈی ماڈل فارم ڈیرہ اسماعیل خان میں ملاقات کی۔ تر جمان کے مطابق وفد میں پارٹی رہنماء جاوید اقبال ایڈووکیٹ، فقیر محمد، نیو خان اور اعجاز احمد وزیر شامل تھے۔ وفد نے گورنر خیبر پی کے کو لکی مروت میں وفاقی محکموں سے متعلق درپیش مسائل سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور عوام کو پیش آنے والی مشکلات پر توجہ دلائی۔ فیصل کریم کنڈی نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ وفاقی محکموں سے متعلق مسائل کے حل کیلئے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جائے گا۔ عوامی نمائندوں اور پارٹی کارکنوں کی نشاندہی پر مسائل کا بروقت ازالہ ان کی ترجیح ہے۔ گورنر نے کہاکہ ڈی آئی خان میں 2 روز اوپن پبلک ڈے کا مقصد عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنا ہے، کنڈی ماڈل فارم عوامی رابطے کی علامت ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔