لکی مروت؛ سیمنٹ فیکٹری کی گاڑی کو بارود سے اُڑا دیا گیا، ایک جاں بحق، متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
لکی مروت:
سیمنٹ فیکٹری کی گاڑی کو دہشت گردوں نے بارود سے اُڑا دیا، جس میں ایک شخص جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے، جن میں سے کچھ کی حالت نازک ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق لکی مروت میں بیگوخیل سڑک پر ناورخیل موڑ کے قریب لکی سیمنٹ فیکٹری کی گاڑی پر آئی ای ڈی دھماکا ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکا گاؤں بیگوخیل سے لکی سیمنٹ فیکٹری جانے والی گاڑی پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں لکی سیمنٹ فیکٹری کا ایک ملازم جاں بحق جب کہ 8 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں 2 خواتین بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں لکی سیمنٹ فیکٹری کے 4 ملازمین بھی شامل ہیں جب کہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
لکی مروت میں پولیس کا کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 3 خارجی جہنم واصل
لکی مروت اور بنوں میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ، 4 پولیس اہلکار شہید
دھماکے کے بعد تمام زخمیوں کو فوری طور پر لکی سٹی اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ ایم ایس ڈاکٹر کفایت اللہ نے تصدیق کی ہے کہ واقعے کے پیش نظر سٹی اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق بس میں اکثریت عام پرائیویٹ افراد کی تھی۔ بس بیگوخیل سے لکی مروت اور پھر نجی سیمنٹ فیکٹری جا رہی تھی۔ ریسکیو 1122 لکی مروت کی امدادی ٹیمیں اطلاع ملتے ہی جائے حادثہ پر پہنچیں اور ریسکیو آپریشن شروع کیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل لکی سیمنٹ فیکٹری لکی مروت
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔