نیپال میں مسجد پر حملے کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے، صورتحال کشیدہ کرفیو نافذ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیپال کے جنوبی سرحدی شہر بیَرگنج میں ایک مسجد پر حملے کے واقعے کے بعد امن و امان کی صورتحال شدید کشیدہ ہو گئی، جس کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ نے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق کشیدگی کی بنیاد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو بنی، جسے مذہبی جذبات مجروح کرنے والا قرار دیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ویڈیو بنانے میں ملوث 2 نوجوانوں کو مقامی شہریوں کی مدد سے گرفتار کر لیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر معاملہ پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش بھی کی گئی، تاہم اس کے باوجود مشتعل افراد نے ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی اور مذہبی کتب کی بے حرمتی کی۔
اس واقعے کے بعد مسلم برادری میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور احتجاج شروع ہو گیا، جس کے ردعمل میں ہندو آبادی بھی سڑکوں پر نکل آئی۔ مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑکیں بند کیں اور شدید نعرے بازی کی، جس پر پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور متعدد افراد کو حراست میں لیا۔ جھڑپوں کے دوران چند پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
صورتحال بتدریج مزید بگڑتی چلی گئی جس کے بعد انتظامیہ کو کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ ابتدا میں کرفیو شام کے وقت لگایا گیا، تاہم بعد ازاں اس میں توسیع کر دی گئی اور شہریوں کو صرف چند گھنٹوں کے لیے نقل و حرکت کی اجازت دی جا رہی ہے۔
پولیس اور ضلعی حکام نے دونوں مذاہب کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کر کے حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کی ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات شدید تحریک انصاف گلگت بلتستان انٹری نواز شریف وی نیوز