data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیپال کے جنوبی سرحدی شہر بیَرگنج میں ایک مسجد پر حملے کے واقعے کے بعد امن و امان کی صورتحال شدید کشیدہ ہو گئی، جس کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ نے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق کشیدگی کی بنیاد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو بنی، جسے مذہبی جذبات مجروح کرنے والا قرار دیا جا رہا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ویڈیو بنانے میں ملوث 2 نوجوانوں کو مقامی شہریوں کی مدد سے گرفتار کر لیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر معاملہ پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش بھی کی گئی، تاہم اس کے باوجود مشتعل افراد نے ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی اور مذہبی کتب کی بے حرمتی کی۔

اس واقعے کے بعد مسلم برادری میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور احتجاج شروع ہو گیا، جس کے ردعمل میں ہندو آبادی بھی سڑکوں پر نکل آئی۔ مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑکیں بند کیں اور شدید نعرے بازی کی، جس پر پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور متعدد افراد کو حراست میں لیا۔ جھڑپوں کے دوران چند پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

صورتحال بتدریج مزید بگڑتی چلی گئی جس کے بعد انتظامیہ کو کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ ابتدا میں کرفیو شام کے وقت لگایا گیا، تاہم بعد ازاں اس میں توسیع کر دی گئی اور شہریوں کو صرف چند گھنٹوں کے لیے نقل و حرکت کی اجازت دی جا رہی ہے۔

پولیس اور ضلعی حکام نے دونوں مذاہب کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کر کے حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کی ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔

ویب ڈیسک فاروق اعظم صدیقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے بعد

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا