وزیر ریلوے کا کراچی روہڑی ٹریک بنانے کا اعلان،منصوبہ ڈھائی برس میں مکمل ہو گا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ کراچی روہڑی 480 کلومیٹر کا ٹریک بنے گا، منصوبے کا سنگ بنیاد جولائی 2026ء میں رکھیں گے اور ڈھائی سال میں مکمل کریں گے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر ریلوے حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ روہڑی سے نوکنڈی سے 9 سو کلو میٹر بنتا ہے، ریکوڈک کی فرم آر ڈی ایم سی کے تعاون سے ٹریک بنے گا‘ 5 سو کلومیٹر نیا بنے گا 4 سو کلومیٹر ٹریک اپ لفٹ ہوگا۔وزیر ریلوے نے کہا کہ پنجاب میں 8 ریجنل روٹس بنیں گے، اس پر حکومت پنجاب نے منظوری دیدی ہے، بلوچستان میں 4 ارب روپے سے پیپلز ٹرین بنا رہے ہیں، وزیر اعلیٰ سندھ کیساتھ 8 تاریخ کو میٹنگ ہے، سکھر ایکسپریس کو بہتر کرنے جا رہے ہیں۔حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ چیئرمین ریلوے کی ملاقات ہوگئی ہے، ان کو بھی ریلوے کے ساتھ پارٹنرشپ میں برانچ لائنز بہتر کرنے پر بات ہوئی ہے، دوسرے فیز میں خود وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملوں گا۔وزیر ریلوے نے کہا کہ 31 دسمبر تک تمام بڑے روٹس کی ٹرین اپ گریڈ کی جائیں گی، ٹرینوں کے اندر سیکورٹی کیمرہ، ہوسٹس اور نئے کچن بنائے جائیں گے، اسٹیشن پر وائی فائی راؤٹرز نصب کر دیے گئے، رابطہ ایپ سے ٹکٹ بک کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ 1700 کلو میٹر میں فائبز بچھانے جا رہے ہیں، کراچی اور لاہور کے اسٹیشن کو سیف اینڈ سیکیور کرنے جا رہے ہیں، ایم ٹیگ کی طرز پر ٹرینوں کو اسٹیکرز لگانے جا رہے ہیں۔حنیف عباسی نے کہا کہ 8 تاریخ کو وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات جبکہ 9 جنوری کو پیپری میں 40 ملین ڈالر کا منصوبہ مکمل ہو گا، تمام ملازمین کو تحفظ دیا گیا، تمام اسپتالوں کو اپ لفٹ کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وزیر ریلوے حنیف عباسی جا رہے ہیں نے کہا کہ
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔