حکومت کی بجلی صارفین کو مزید ریلیف دینے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی صارفین کو ایک اور ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کے تحت آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق کیپٹو پاور لیوی عاید کرنے کے بعد اس رقم کو بجلی کے نرخ کم کرنے کے لیے استعمال کرنے کا پلان تیار کیا گیا ہے، جس سے پاور سیکٹر میں ریلیف کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔حکومتی ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کیپٹو پاور لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کو ماہانہ بنیادوں پر بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ حکومت کو توقع ہے کہ جیسے جیسے کیپٹو پاور لیوی کی شرح میں اضافہ ہوگا، اسی تناسب سے بجلی کے نرخوں میں زیادہ ریلیف دینا ممکن ہو سکے گا۔ ذرائع نے اس حوالے سے مزید بتایا ہے کہ ماہانہ جمع ہونے والی لیوی کا فائدہ براہ راست ہر ماہ دینے کے بجائے 2 ماہ کے وقفے سے بجلی کے نرخوں میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت نے کیپٹو پاور پلانٹس پر مرحلہ وار 20 فیصد تک لیوی عاید کرنے کا قانون نافذ کر دیا ہے، جس کا اطلاق مختلف مراحل میں کیا جائے گا۔منصوبے کی تفصیلات کے مطابق کیپٹو پاور پلانٹس پر فوری طور پر 5 فیصد لیوی نافذ کر دی گئی ہے جب کہ دوسرے مرحلے میں یہ شرح 10 فیصد تک بڑھائی جائے گی۔ مزید بتایا گیا ہے کہ فروری 2026ء میں لیوی 15 فیصد اور اگست 2026ء میں کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی کی شرح 20 فیصد تک پہنچ جائے گی، جس سے حاصل ہونے والی رقم پاور سیکٹر کے تمام کیٹیگریز کے بجلی صارفین کے ٹیرف میں کمی کے لیے استعمال کی جائے گی۔حکومتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ لیوی کی عدم ادائیگی کی صورت میں کیپٹو پاور پلانٹس کے خلاف کارروائی کی جائے گی جب کہ مستقل ڈیفالٹ کی صورت میں متعلقہ کیپٹو پاور پلانٹ کو گیس کی فراہمی منقطع کر دی جائے گی۔ ہر کیپٹو پاور پلانٹ گیس یا ایل این جی کے استعمال پر وفاقی حکومت کو لیوی ادا کرنے کا پابند ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیپٹو پاور پلانٹس بجلی صارفین کرنے کا جائے گی گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔