پیپلزپارٹی نے کرپشن اورڈاکوراج سندھ کی پہچان بنادی‘کاشف شیخ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاڑکانہ (جسارت نیوز)امیرجماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے ملک میں آئین وقانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی اورعوام کا حق حکمرانی یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیس پیٹرول کوئلے کی دولت کے باوجود سندھ میں44فیصد گھرانے گیس،30فیصدبجلی سے محروم ہیں۔78لاکھ بچے اسکول سے باہر اورایک بھی موٹروے نہیں کیایہ سندھ کے عوام کے ساتھ ناانصافی نہیں؟۔ کراچی حیدرآباد موٹروے سندھ کے عوام کے ساتھ مذاق ہے۔ دنیا کا دستور ہے کہ جہاں پورٹ ہوتا ہے سب سے پہلے موٹروے وہاں پر بنتا ہے۔17سال سے برسراقتداربلاول زرداری کی پیپلزپارٹی نے کراچی تا کشمور سندھ کو موئن جو دڑو اورکرپشن اورڈاکوراج سندھ کی پہچان بنادی ہے۔سیلاب زدگان کے لیے 21لاکھ گھر وںسے لے کر بینطیر انکم سپورٹ پروگرام تک سندھ میں80فیصد کرپشن ہے۔ 27ارب کی سولر انرجی پروجیکٹ میں کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ کروڑوں اربوں روپے کی گندم بھی چوہے کھاجاتے ہیں۔ ایک سابق بیوروکریٹ فضل اللہ قریشی کے مطابق وفاق سے سندھ کو 12ہزار ارب روپے ملے مگر 10 فیصد بھی کام نہیں ہوا ہے۔صوبائی دارالحکومت اور ملک کا سب سے بڑا شہرکراچی کچراکنڈی میں بدل چکا ہے۔آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت بلدیاتی اداروں کو مالی وانتظامی طورپربااختیاربنایا جائے۔ کراچی کے 3360 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے کچھ پتا نہیں۔ہرجگہ پر سسٹم کا قبضہ ہے۔سول اور ملٹری بیوروکریسی کی اجارہ داری اور جاگیردارنہ وسرمایہ دارانہ نظام کے ذریعے سندھ کے عوام کو غلام بنایا گیا ہے۔بدامنی ،قبائلی تصادم، ڈاکو راج ختم کر کے عوام کو عزت کے ساتھ جینے کا حق دیا جائے ۔جماعت اسلامی نے ’’بدل دو نظام کوسنواردو سندھ کو‘‘ مہم شروع کردی ہے۔جس میں ہم سندھ کے ہرشہرگائوں اورگلے محلے تک اپنا پیغام پہنچائیں گے۔اس سلسلے میں بڑے پیمانے پرجلسے،کارواں،سیمیناراوررابطہ عوام کریں گے۔سکھر اورمیرپورخاص میں بڑے جلسے ہوں گے جن سے امیرجماعت حافظ نعیم الرحمن خصوصی خطاب کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاڑکانہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر صوبائی رہنما امداداللہ بجارانی، ضلعی امیر ایڈووکیٹ نادرعلی کھوسہ،ایڈدوکیٹ محمد عاشق دھامراہ،عباس علی بلوچ ودیگر مقامی رہنما بھی ساتھ موجود تھے۔صوبائی امیر نے مزید کہا کہ خود پولیس کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال 2025 کے صرف 8ماہ کے دوران سندھ میں بے امنی، لاقانونیت،ڈاکو راج اور عوامی حقوق کے استحصال کا سال رہا۔صرف ضلع شکارپورمیں مہراور جتوئی قبائلی تصادم سمیت 200سو سے زاید انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔2981پولیس پرحملے، 1332شہری قتل جبکہ 3817 لوگ اغوا ہوئے جس میں 385بچے شامل تھے۔ لوٹ مار کے واقعات اس کے علاوہ ہیں۔ اس صورتحال میں ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک فرسودہ نظام اور کرپٹ قیادت تبدیل نہیں ہوتی اس وقت تک ملک وقوم کے حالات میں بہتری ممکن نہیں ہے۔ جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں ’’بدل دو نظام ‘‘تحریک چلارہی ہے جوکہ اب عام آدمی کی دلوں کی آواز بن چکا ہے۔ 78سال سے برسراقتدار ٹولے اور اشرافیہ نے عوام کو بھوک افلاس، بے امنی،دہشت گردی ،بیروزگاری اور محرومیوں کے سوا کچھ نہیں دیا ہے۔ عوام ملک میں حقیقی جمہوری تبدیلی اور بہتر قیادت کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 73ء کے متفقہ آئین میں من پسند ترمیمات کرکے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا گیا،پارلیمنٹ کو بے روح، عدلیہ کو مفلوج اور فارم47کے ذریعے عوام کو اپنے حق حکمرانی سے محروم کردیا گیا ہے۔جب ملک میں آئین وقانون ہی نہیں ہوگا تو ملک کیسے قائم اور آگے بڑھ سکے گا۔حد تو یہ ہے کہ نصف سال سے قومی اسمبلی اور ایوان بالا دونوں میں اپوزیشن لیڈر نہیں۔26اور27ویں ترمیم کے ذریعے آئین کو دفن تو دوسری جانب مجوزہ28ویں ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کا پینڈورا باکس کھولنے کے ساتھ صوبوں کے وسائل پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے حالانکہ مضبوط اور خوشحال صوبے ہی ایک مستحکم ومضبوط ملک کی ضمانت ہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین کا ہرضلع میں یونیورسٹی قائم کرنے کا اعلان اچھی بات ہے مگروہ سب سے پہلے 78لاکھ اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی فکرکریں۔تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے بچے بے راہ روی،منشیات کی لعنت میں مبتلا اورجرائم کی دنیا میں چلے جارہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئین وقانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی اورعوام کا حق حکمرانی یقینی بنایا جائے۔بلدیاتی اداروں کو انتظامی ومالی طور پر بااختیار بنا کر شہروںکی تعمیر وترقی اور عوام کے بنیادی مسائل حل کیے جائیں ۔طبقاتی تعلیم ،گھوسٹ اسکولز ،کاپی کلچر ،میرٹ کا قتل ختم اور ایک نظام ،ایک معیار اور ایک نصاب کی پالیسی بنائی جائے۔بدامنی ،لاقانونیت،قبائلی تصادم، ڈاکو راج ختم کر کے عوام کو عزت کے ساتھ جینے کا حق دیا جائے ۔سول اور ملٹری بیورو کریسی کی اجارہ داری ،کرپشن لوٹ مارآئی پی پیز ،آٹا ، چینی مافیاسے نجات دلائی جائے ۔سندھ کو اپنے حصے کا پانی دیا جائے ، پانی کی کمی اور جائز حصہ نہ ملنے کی وجہ سے زراعت تباہ اور کاشتکاربدحال ہوگیا ہے۔آئین کے مطابق صوبے سے نکلنے والے قدرتی وسائل اور جزائر پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے۔ SIFC کارپوریٹ فارمنگ کے نام پرسندھ کی زمینوں کو ہتھیانے کا غیر قانونی سلسلہ بند کیا جائے۔جاگیردارانہ وسرمایہ دارانہ نظام کے ذریعے سندھ کو غلام بنایا جا رہا ہے ، اس سے نجات وقت کی ضرورت ہے،سندھ میں انڈسٹریل صنعت کو بحال اور موجودہ صنعتوں ، کارخانوں میں مقامی لوگوں کو روزگار دیا جائے۔منشیات کی لعنت کا خاتمہ کرکے نوجوان نسل کو بے راہ روی اور تباہی سے بچایا جائے۔اسپتالوں میں عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں جعلی مہنگائی اور ڈرگ مافیا سے نجات دلائی جائے ،متناسب نمائندگی پر مبنی شفاف انتخابی نظام قائم کیا جائے۔
جسارت نیوز
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ذریعے دیا جائے سندھ کے کے عوام کے ساتھ سندھ کو عوام کو
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔