حیدرآباد ،وینزویلا پر امریکی حملے کیخلاف پاپولر لیفٹ الائنس کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) وینزویلا پر امریکی حملے اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کے اغوا کے خلاف پاپولر لیفٹ الائنس کی جانب سے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سندھ کے سیکرٹری اطلاعات کامریڈ اقبال نے کہا کہ پاپولر لیفٹ الائنس کی کال پر امریکا کی غنڈہ گردی کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے وینزویلا پر حملہ کر کے اس کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کر لیا ہے جو کھلی بین الاقوامی دہشت گردی ہے جسے مہذب دنیا قبول نہیں کرے گی۔ اس موقع پر سندھ کسان کمیٹی کے نائب صدر غلام مصطفیٰ راجپر، انجمن جماعت پسند کھیت کی رہنما انیلا قادری، عوامی تحریک کے سرمد راجپر، جیے سندھ محاذ کے خالد جونیجو اور پی ٹی آئی حیدرآباد کے رہنما محراب گل مہمند نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ جہاں جہاں تیل، گیس اور قدرتی معدنیات موجود ہیں وہاں سامراجی طاقتیں اپنی جنگی جنون میں مبتلا ہوکر حملہ ہوتی ہیں۔ امریکا ہر جگہ سازشیں کرتا ہے اور کرپٹ فوجی جرنیلوں کے ذریعے حکومت کی تبدیلی لاتا ہے۔ جہاں لالچی غدار جرنیل نہیں ملتے وہاں وینزویلا کی طرح براہ راست ایکشن لیتا ہے۔ مقررین نے کہا کہ امریکہ عراق، لیبیا اور دیگر ممالک سے تیل کے حصول کے لیے خونریز جنگیں کر کے اپنے مقاصد حاصل کر رہا ہے۔ اس وقت پوری دنیا انتہائی غیر محفوظ ہو چکی ہے۔ عالمی سطح پر کوئی ایسی طاقت نہیں جو امریکی سامراج کو اس فعل سے روک سکے۔ آج ترقی پسند اور محب وطن قوم پرست جماعتیں وینزویلا کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کر رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔