یوکرین کی سلامتی کے لیے برطانیہ اور فرانس فوجی تعیناتی پر متفق
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
PARIS:
یوکرین، برطانیہ اور فرانس کے رہنماؤں نے یوکرین کے دفاع، تعمیرِ نو اور خطے میں اسٹریٹجک استحکام کے لیے کثیر القومی فورس کی تعیناتی سے متعلق ایک اعلامیے پر دستخط کر دیے ہیں۔
یہ اعلامیہ پیرس میں منعقد ہونے والے کوالیشن آف دی ولنگ سربراہی اجلاس کے اختتام پر یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے دستخط کیا۔
صدر زیلنسکی نے بتایا کہ یوکرینی وفد نے مستقبل کی سیکیورٹی ضمانتوں پر امریکی نمائندوں سے مزید مذاکرات کے لیے بدھ کے روز پیرس میں قیام بڑھا دیا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ دستاویزات کی تیاری پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم بات چیت میں سب سے بڑا حل طلب معاملہ علاقائی امور سے متعلق ہے۔
یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ اگر کچھ نکات پر ٹیمیں اتفاقِ رائے تک نہ پہنچ سکیں تو انہیں سربراہان مملکت کی سطح پر اٹھایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی ٹیم امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے علیحدہ ملاقاتیں بھی کرے گی۔
مزید پڑھیںروس یوکرین جنگ کے خاتمے کی امید؟ کیف میں عالمی طاقتوں کا بڑا اجلاس
روس یوکرین جنگ ختم ہونے کے قریب؟ زیلنسکی نے اہم اشارہ دے دیا
زیلنسکی نے اس امید کا اظہار کیا کہ معاہدے پر دستخط مستقبل قریب میں ہو جائیں گے اور اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتیں ایسی قانونی ذمہ داریوں پر مبنی ہونی چاہئیں جن کی منظوری امریکی کانگریس دے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں جنگ بندی کے بعد امن معاہدے کی خلاف ورزیوں کی نگرانی پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، اور امریکہ اس حوالے سے کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
صدر زیلنسکی نے ٹیلیگرام پر جاری اپنے پیغام میں بتایا کہ فرانس، برطانیہ اور یوکرین کے عسکری حکام نے فورس کی تعیناتی سے متعلق تعداد اور مؤثر کارروائی کے لیے درکار مخصوص ہتھیاروں پر تفصیلی کام کیا ہے۔
اجلاس میں برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں 35 ممالک نے شرکت کی، جو روس کے ساتھ جنگ بندی کی صورت میں یوکرین میں فوجی دستے تعینات کرنے پر آمادگی رکھتے ہیں۔
اس موقع پر امریکی وفد بھی موجود تھا، جس میں خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔
اجلاس میں یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں اور ان پر عملدرآمد کے طریقۂ کار پر تفصیلی غور کیا گیا، جو اس سے قبل کیف میں ہونے والے قومی سلامتی کے مشیروں کے تیاری اجلاس کا تسلسل تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: برطانیہ اور زیلنسکی نے یوکرین کے کے لیے
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔