موٹر وے ایم 4 کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا، ایم ون اور ٹو تاحال بند
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
لاہور:
ترجمان سینٹرل ریجن موٹر وے پولیس کا کہنا ہے کہ حد نگاہ میں بہتری کے بعد موٹروے ایم 4 کو پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد ٹریفک کے لیےکھول دیا گیا ہے۔
جبکہ شدید دھند کے باعث موٹروے پولیس نے مسافروں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے موٹرویز کے ایم ون اور ایم ٹو ٹریفک کے لیے تاحال بند ہے۔
موٹروے پولیس کے مطابق موٹروے ایم ون پشاور سے برہان تک تمام قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے، جبکہ موٹروے ایم ون اسلام آباد سے برہان تک بجانبِ پشاور بڑی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیںشدید دھند کے باعث موٹر وے کے مختلف سیکشنز ٹریفک کے لیے بند
سینٹرل ریجن میں شدید دھند کا راج، موٹر وے کے متعدد سیکشنز ٹریفک کے لیے بند
اسی طرح موٹروے ایم ٹو پر دھند کے باعث کوٹ مومن سے لللہ تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے موٹروے بند کر دی گئی ہے، جبکہ موٹروے ایم ٹو پر چکری سے کوٹ مومن تک بجانب لاہور تمام اقسام کی گاڑیوں کی آمد و رفت معطل کر دی گئی ہے۔
موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ موٹرویز کی بندش کا مقصد ممکنہ حادثات سے بچاؤ اور موٹروے استعمال کرنے والوں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سفر سے قبل موٹروے پولیس ہیلپ لائن سے تازہ صورتحال معلوم کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موٹروے پولیس ٹریفک کے لیے موٹروے ایم وے پولیس موٹر وے ایم ون گئی ہے وے ایم
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔