اگرچہ بھارتی حکومت مسلسل اس بات کی تردید کرتی رہی ہے کہ امریکا نے پہلگام واقعے کے بعد پیدا ہونے والی 4 روزہ بھارت پاکستان کشیدگی کے خاتمے میں کوئی کردار ادا کیا، تاہم معروف بھارتی اخبار دی ہندو کی ایک حالیہ رپورٹ نے اس دعوے پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

امریکی حکام سے رابطے، لابنگ فرم کا کردار

رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے تعینات کی گئی ایک امریکی لابنگ فرم SHW LLC نے 10 مئی 2025 کو اور اس کے بعد امریکی حکام سے متعدد رابطے کیے۔ یہ فرم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی معاون جیسن ملر کی سربراہی میں کام کر رہی ہے۔

فارن ایجنٹ رجسٹریشن ایکٹ (FARA) کی فائلنگ

دی ہندو کے مطابق امریکی محکمۂ انصاف میں فارن ایجنٹ رجسٹریشن ایکٹ (FARA) کے تحت جمع کرائی گئی دستاویزات میں دسمبر 2025 میں 60 اندراجات سامنے آئے۔ اگرچہ ان میں یہ واضح نہیں کہ 10 مئی کو کیے گئے رابطے جنگ بندی سے پہلے تھے یا بعد میں، تاہم رپورٹ کے مطابق یہ رابطے اسی دن ہونے والی قریبی سفارتی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس اور قومی سلامتی کونسل سے بات چیت

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی سفارت خانے نے لابنگ فرم کے ذریعے وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوزی وائلز، امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر اور  نیشنل سیکیورٹی کونسل کے عہدیدار ریکی گل سے رابطے کیے، جن میں تنازع سے متعلق میڈیا کوریج اور دیگر امور پر گفتگو کی گئی۔

بھارتی مؤقف سے تضاد؟

یہ انکشافات بھارت کے اس سرکاری مؤقف سے متصادم دکھائی دیتے ہیں جس میں صدر ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی گئی کہ انہوں نے تجارت روکنے کی دھمکی دی تھی اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے رکی گل کو بحران کم کرنے پر دیے گئے اعزاز کو بھی نظرانداز کیا گیا۔

خاص طور پر آپریشن سندور پر امریکی تجارتی نمائندے سے رابطہ رپورٹ کے مطابق غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

لابنگ فرم کے ذریعے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں

FARA فائلنگ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ SHW LLC نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر خارجہ سیکریٹری وکرم مصری، نائب قومی سلامتی مشیر پون کپور اور امریکی سفیر ونئے کواترا کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کا بندوبست کیا۔

معاہدہ اور بھاری فیس

یہ فرم 24 اپریل 2025 کو بھارتی سفارت خانے کی جانب سے ہائر کی گئی۔
معاہدے کے تحت ماہانہ فیس 1 لاکھ 50 ہزار ڈالر طے پائی جبکہ سالانہ معاہدہ 18 لاکھ ڈالر کا تھا۔ اب تک ادا کی گئی رقم 9 لاکھ ڈالر ہے۔

دی ہندو کے مطابق اس فرم کا اس عرصے میں کوئی اور کلائنٹ نہیں تھا۔

سفارتی حلقوں میں تشویش

بھارت کے سابق اور موجودہ سفارت کاروں کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ کسی لابنگ فرم کو براہِ راست امریکی حکام سے ملاقاتیں طے کرنے اور سرکاری کالز شیڈول کرنے کا کام سونپا گیا ہو۔

ایک سابق سفارت کار کے مطابق عام طور پر ایسے رابطے سفارتی مشن خود کرتا ہے، یہ طرزِ عمل غیر معمولی ہے۔

بھارتی سفارت خانے کا مؤقف

واشنگٹن میں بھارتی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی سفارت خانہ 1950 کی دہائی سے امریکی قوانین کے مطابق لابنگ فرمز کی خدمات لیتا آ رہا ہے، یہ کوئی نیا عمل نہیں۔ تاہم ایک اور عہدیدار کے مطابق لابنگ فرمز کا کردار عموماً مشاورت اور ماحول کو سمجھنے تک محدود ہوتا ہے، نہ کہ براہِ راست سرکاری رابطوں تک۔

تجارتی تنازع اور بڑھتی سرگرمیاں

رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے بھارت پر 25 فیصد جوابی ٹیرف اور روسی تیل کی خرید پر مزید 25 فیصد جرمانہ ٹیرف کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہوئے، جس کے نتیجے میں وائٹ ہاؤس اور تجارتی حکام سے کالز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

تعلقات میں بہتری اور ذاتی رابطے

بعد ازاں جب ٹرمپ اور مودی کے درمیان سوشل میڈیا پر خوشگوار پیغامات کا تبادلہ ہوا تو لابنگ فرم نے ان پوسٹس کو امریکی حکام تک پہنچایا۔
ستمبر 2025 میں ٹرمپ نے مودی کو سالگرہ پر فون بھی کیا، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی رابطے ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بھارت 4 روزہ جنگ دی ہندو ڈونلڈ ٹرمپ نریندر مودی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاک بھارت 4 روزہ جنگ ڈونلڈ ٹرمپ بھارتی سفارت خانے رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے لابنگ فرم حکام سے کے بعد کی گئی

پڑھیں:

ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری

مجھے خوب یاد ہے کہ راقم نے سب سے پہلے اُن کی تحریر امریکا کے مشہور جریدے ’’نیویارکر‘‘ میں پڑھی تھی۔اِس تحریر کی معرفت میرا اُن سے پہلا تعارف ہُوا۔ یوں میں اُن کی تحریروں کا گرویدہ ہوتا چلا گیا ۔ وہ ہمیشہ مفصل لکھتی ہیں اور اپنا نکتہ نظر کھل کر اور بے دھڑک بیان کرتی ہیں ۔ اُنھی ایام میں گجرات میں ہندو دہشت گردوں اور بدمعاشوں نے دل کھول کر مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی تھی ۔

اِسی خونریزی میں مشہور گجراتی مسلمان سیاستدان و رکن پارلیمنٹ (احسان جعفری) کا خون بھی کر دیا گیا تھا۔اِسی نسل کشی اور مسلمانوں کی بے دریغ خونریزی پر مذکورہ مصنفہ نے ایسا انکشاف خیز آرٹیکل لکھا تھا کہ بھارتی حکومت اور گجرات کی ریاستی سرکار( جس کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے) تھرّا اُٹھے تھے۔ راقم اُن دنوں امریکا میں مقیم تھا اور وہاں سے بھارتی جرائد و اخبارات حاصل کرنا سہل تھا ۔ نیویارک کے معروف علاقے ’’ جیکسن ہائٹس‘‘ میں ایک ہندو کی خاصی بڑی دکان تھی ۔ وہیں سے مَیں بھارتی جریدے خریدا کرتا تھا ۔ مثال کے طور پر: انڈیا ٹوڈے،آؤٹ لک ، فرنٹ لائن وغیرہ ۔اِن تینوں جرائد میں میری پسندیدہ لکھاری کی تحریریں باقاعدہ اور بکثرت شائع ہوتی تھیں ۔

میری اِس محبوب لکھاری کی تحریروں نے مجھے اتنا مسمرائز کررکھا تھا کہ اُن کا عالمی شہرت یافتہ پہلا ناول The God of Small Thingsسامنے آیا تو پہلی ہی فرصت میں نیویارک کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان Barnes and Nobleسے خریدا اور ٹرین میں آتے جاتے اِسے پڑھا ۔ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ ناول کی کہانی بھارتی صوبے ، کیرالہ، سے شروع ہوتی ہے ۔

اِس کہانی میں کیرالہ کے ایک قصبے میں رہائش پذیر ایک غریب خاندان کی دل شکستہ داستان بیان کی گئی ہے ۔ ناول میں کیرالہ کے ذات پات کے بندھنوں میں جکڑے خاندانوں اور اُن کی المناک کہانیوں کو الفاظ کی شکل میں فلم بنا کر دکھایا گیا ہے۔یہ ناول اشکبار اور افسردہ کر دینے والا ہے ۔ ناولسٹ کو اِس کی بے پناہ مقبولیت کی بِنا پر معروفِ عالم ادبی انعام ’’ بکر پرائز‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔ یوں ناول نگار کو عالمی شہرت بھی مل گئی ۔

میری اِس محبوب بھارتی رائٹر کا نام ارُن دھتی رائے ہے ۔ اُن کی کئی عالمی شہرت یافتہ تحریروں کو اُردو میں ترجمہ کرکے کراچی کے سہ ماہی جریدے ’’آج‘‘ کے ذہین و فطین مدیر،اجمل کمال، شائع کر چکے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اجمل کمال صاحب اپنے نام کی مانند باکمال مترجم بھی ہیں ۔ ارُن دھتی رائے کی شخصیت اور تحریریں خاصی سرکش ، مزاحمتی اور ریاست مخالف ہوتی ہیں۔

ہر بھارتی حکومت اِسی لیے انھیں ناپسندیدہ قرار دیتی ہے ۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کئی معروف بھارتی سیاستدان ( از قسم بی جے پی) متعدد بار ارُن دھتی رائے کو ’’غدارِ وطن‘‘ قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن یہ درویش صفت خاتون دانشور اور مصنفہ ہر قسم کی سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے باوصف اپنے طے شدہ موقف سے ہٹتی ہیں نہ کوئی مخالف انھیں ہٹا سکا ہے ۔ ارُن دھتی رائے کی تحریروں میں جس طرح مظلوم بھارتی مسلمانوں اور زیر استبداد مقبوضہ کشمیریوں کی غیر مبہم حمائت کی جاتی ہے، اِن کی بنیاد پر اُن کے خلاف غداری کے کئی مقدمات بھی دائر ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ سرکش مصنفہ کسی کے غچے اور غرّے میں آنے والی نہیں ہیں ۔

بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی پاسداری کا اِس محترم و عظیم خاتون نے جس عزیمت سے پرچم اُٹھا رکھا ہے، ہم پاکستانیوں کو شائد اِس لیے بھی ارُن دھتی رائے پسند ہیں ۔ بھارت میں خبثِ باطن کے حامل کئی افراد نے انھیں ’’پاکستان کی ایجنٹ‘‘ بھی قرار دے رکھا ہے ۔ حیرت ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی بھی ایک ’’ارُن دھتی رائے‘‘ ہُوا کرتی تھیں : وہ باقاعدہ لکھاری تو نہیں تھیں مگر ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی محافظ ہونے کے ناتے وہ ہر مستبد پاکستانی حکمران کی سخت ناقد رہا کرتی تھیں ۔ اُن کے ہر بیان اور اقدام کی اساس پر اُن کے نظریاتی و سیاسی و سماجی مخالفین انھیں ’’بھارت کی ایجنٹ‘‘ کے لقب سے یاد بھی کرتے تھے ۔

اگست2002کے سلگتے ایام میں ارُن دھتی رائے پاکستان تشریف لائیں تو ہم نے انھیں حیرت انگیز نظروں سے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں خطاب کرتے دیکھا اور سُنا ۔ اُن کی سادہ شخصیت اور نہایت سادہ لباس اور بھی دَم بخود کر دینے والا تھا ۔ ایک نئی نئی سیاسی جماعت بنانے والے پاکستانی سیاستدان ( جو اَب مرحوم ہو چکے ہیں) اور ایک معروف صحافی (جو اَب مشہور ٹی وی اینکر ہیں) کی دعوتِ خاص پر ارُن دھتی رائے پاکستان آئی تھیں ۔ اور اب اِنہی ارُن دھتی رائے کی نئی کتابMother Mary Comes to Me شائع ہو کر سامنے آئی ہے تو ہم نے اِسے شوق، تجسس اور مسرت سے دیکھا اور پڑھا ہے ۔

اس کتاب میں مصنفہ کی سچائی ، سچ سے محبت، سماجی روایات سے بغاوت اور سرکشی اپنے عروج پر ہے ۔ جس نے بھی اِس کتاب کو پڑھا ہے،سناٹے میں آ گیا ہے کہ آیا کوئی مصنفہ بیٹی ہونے کے ناتے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنی والدہ بارے اتنے کڑوے سچ بھی بول اور لکھ سکتی ہے؟

یہ تازہ کتاب(Mother Mary Comes to Me) ارُن دھتی رائے نے دراصل اپنی آنجہانی والدہ (Mary) بارے لکھی ہے ۔ یہ درحقیقت والدہ بارے تلخ یادداشتیں اور سوانح ہیں ، مگر بین السطور یہ ارُن دھتی رائے کی سوانح حیات بھی ہے ۔ مصنفہ کے سیاسی و سماجی بھارتی ناقدین(خصوصی طور پر دائیں بازو کے بھارتی سیاستدان)کا کہنا ہے کہ ’’جو رائٹراپنی والدہ بارے یہ سخت الفاظ لکھ سکتی ہے ، اُس کے لیے غداری کا لفظ بھی کم ہے ۔‘‘زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے اپنی والدہ کے ساتھ پیچیدہ ، ،مشکل اور جذباتی تعلقات کی داستان بیان کی ہے۔ ارُن دھتی رائے کے بچپن اور والدہ سے تعلقات کی یادداشتوں اور مضبوط حافظے کی داد دینا پڑتی ہے ۔ اُن کی والدہ ایک سخت گیر اور ڈسپلن کی پابند ماہر تعلیم تھیں ۔

اُنھوں نے کیرالہ میں جدید اسکول کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں بڑی شہرت کا حامل بنا ۔ Maryاِس اسکول کی ہیڈ مسٹرس بھی رہیں ۔ وہ ایک آزاد روش کی حامل ، باغی اور انقلابی ذہن کی حامل استاد اور سوشل ایکٹوسٹ بھی تھیں ۔ اُنھوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں شامی مسیحی بچیوں کا مقدمہ بہادری سے جیتا اور تاریخ رقم کر گئیں ۔ سماج سے بغاوت اور آزادی سے جینے اور لکھنے کی خواہش کے عناصر ارُن دھتی رائے کو اپنی والدہ سے وراثت میں ملے ۔ حکومت ، سیاست اور سماج مخالف آزادانہ تحریروں کے باعث انھیں ’’اینٹی انڈیا‘‘ بھی کہا گیا ۔ بھارت سرکار کی جانب سے ایک بڑا ڈیم ( نرمدا ویلی ڈیم پراجیکٹ) بنانے کے چکر میں لاکھوں کی مقامی آبادی کو جس وحشت سے اکھیڑا گیا، اُرن دھتی رائے نے بھارت بھر میں اِن غریبوں کا مقدمہ لڑا اور بالآخر اُن کے حقوق دلوا ہی دیئے ۔

ارُن دھتی رائے نے جرأتمندی سے طاقتوروں سے سوال پوچھنے اور اُن کے سامنے ڈَٹ جانے کا سلیقہ اپنی والدہ سے سیکھا ۔ شائد اِسی بِنا پر مصنفہ نے اپنی اِس کتاب میں اپنی والدہ کو اپنی Gangster، Shelterاور My Stormبھی قرار دیا ہے ۔ اگر زیر نظر کتاب کے خلاصے کو دو چار الفاظ میں کوزے میں بند کیا جائے تو کہا جائے گا کہ ارُن دھتی رائے کے قلم سے یہUncompromising Memoirsکی بازگشت ہے ۔ اُنھوں نے اپنی ڈسپلن پسند والدہ بارے لکھا ہے کہ وہ اپنے دونوں بچوں سے سفاکی کی حد تک منظم زندگی ، مگر آزادانہ زندگی گزارنے کی طلبگار تھیں ۔

وہ لکھتی ہیں :’’ اور جب میری تحریروں کے باعث مجھے بھارت اور بھارت سے باہر شہرت ملنے لگی تو میری والدہ مجھ سے حسد کرنے لگی تھیں َ‘‘۔ارُن دھتی رائے بھارت اور دُنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی جس طرح علمبردار ہیں، اِسی طرح وہ دُنیا کے کسی بھی ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی حامی نہیں ہیں ۔اُن کے یہ الفاظ اُن کی آزاد منش طبیعت اور باغیانہ روش کے مظہر کہے جاتے ہیں:’’ مجھے کہنے ، لکھنے اور بولنے کی مطلق آزادی چاہیے ۔ اِس کے لیے مجھے کسی خاص ملک کے قومی پرچم کی چھاؤں کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک کا قومی پرچم دراصل کپڑے کو وہ ٹکڑا ہے جو انسانوں کے دماغوں کو محدود بھی کرتا ہے اور اِنہیں سکیڑ کر رکھ دیتا ہے ۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل