5 بڑوں کی ملاقات یا پی ٹی آئی سے مذاکرات کا امکان نہیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
ملک میں سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کیلیے وزیراعظم کے مشیر رانا ثنانے 5بڑے اسٹیک ہولڈرز کی ملاقات کی تجویز دی ہے تاہم مبصرین کے مطابق اس ملاقات یا پی ٹی آئی سے مذاکرات کا فوری کوئی امکان نہیں ہے۔
پی ٹی آئی کے سابق رہنما فواد چوہدری نے کہا موجودہ سیاسی حالات میں یہ ملاقات ممکن نہیں، فریقین میں بداعتمادی پائی جاتی ہے، جبکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے بامقصد مذاکرات پر آمادگی میں رکاوٹیں حائل ہیں۔
سینئر صحافی مظہر عباس نے کہا یہ تجویز محض سیاسی بیان بازی ہے۔ مذاکرات شروع کرنے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے اس سے قبل بحالی اعتماد کے اقدامات ضروری ہیں جن میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری اور عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینا شامل ہیں۔
نواز شریف کے کردار کے حوالے سے مظہر عباس نے کہا محمود اچکزئی کے دوستانہ تعلقات کی بدولت نوازشریف کی بامقصد مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا آصف زرداری یکطرفہ کوئی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ سیاسی تجزیہ کار حسن عسکری نے کہاموجودہ حالات میں مذاکرات ممکن نہیں، سیاسی اختلافات بہت گہرے اور فریقین میں بداعتمادی پائی جاتی ہے، دونوں اطراف سے بحالی اعتماد کے اقدامات کے بغیر صورتحال میں بہتری کا امکان نہیں۔
فریقین کو کمپرومائز کرنا ہوگا۔ حسن عسکری نے کہا نواز شریف کے کردار کے حوالے کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ وزیراعظم اور آرمی چیف کے اتفاق کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل نے کہا
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز