data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کوئٹہ میں ایک رکشا ڈرائیور نے مبینہ طور پر پولیس اہلکار کی جانب سے رشوت طلب کیے جانے پر احتجاجاً اپنے رکشے کو آگ لگا دی، جس سے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی اور شہریوں کی توجہ واقعے کی جانب مبذول ہو گئی۔

واقعے سے متعلق دوسری جانب ایس پی ٹریفک عاصم شاہ نے رشوت لینے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹریفک پولیس کمشنر کوئٹہ کے احکامات پر غیر قانونی لوڈر رکشوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔

ایس پی ٹریفک کے مطابق قانون کی خلاف ورزی پر رکشے کے خلاف کارروائی کی جا رہی تھی، اسی دوران ڈرائیور نے اشتعال میں آ کر رکشے کو آگ لگا دی، جس کے بعد اسے حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی شکایت کی صورت میں قانونی طریقہ اختیار کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی