ملکی معیشت کیلیے مثبت اشارے: ایس ای سی پی میں کمپنیوں کی رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان میں کاروباری ماحول میں بہتری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے واضح اشارے سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران کمپنیوں کی رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق جولائی سے دسمبر 2025ء کے دوران مجموعی طور پر 21 ہزار 668 نئی کمپنیوں نے خود کو رجسٹرڈ کروایا، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں ایک نمایاں پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
ایس ای سی پی کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں نئی کمپنیوں کا اندراج اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے اور کاروباری طبقہ مستقبل کے حوالے سے نسبتاً پُرامید ہے۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس عرصے کے دوران نئی رجسٹرڈ کمپنیوں کی جانب سے 30 ارب 70 کروڑ روپے کا ادا شدہ سرمایہ بھی جمع کروایا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 79 ہزار 724 تک پہنچ چکی ہے، جو پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر میں مسلسل توسیع کا ثبوت ہے۔ ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کا شعبہ سب سے زیادہ نمایاں رہا، جہاں 4 ہزار 277 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل معیشت اور آن لائن کاروبار پاکستان میں تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔
اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ ٹریڈنگ، سروسز اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں میں بھی نمایاں کارپوریٹ گروتھ دیکھی گئی، جس سے مجموعی اقتصادی سرگرمیوں میں وسعت پیدا ہوئی ہے۔ اسی عرصے کے دوران 524 غیر ملکی کمپنیاں بھی پاکستان میں رجسٹرڈ ہوئیں، جن کی مجموعی سرمایہ کاری کا حجم ایک ارب 26 کروڑ روپے بتایا گیا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے چین 71 فیصد حصے کے ساتھ سرفہرست رہا، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی رجسٹریشن نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ ٹیکس نیٹ میں وسعت، برآمدات میں اضافہ اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کا باعث بھی بنے گی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں پاکستان کا کارپوریٹ سیکٹر معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کمپنیوں کی کے دوران کے مطابق
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔