امریکی حملہ، کیوبا اور وینزویلا کے 55 سینئر فوجی افسران ہلاک، فہرست جاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
کیوبا اور وینزویلا نے گزشتہ ہفتے ہونے والی امریکی فوجی کارروائی میں ہلاک ہونے والے اپنے فوجی اہلکاروں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق دونوں ممالک نے مجموعی طور پر 55 فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق کیوبا کی حکومت نے 32 فوجی اہلکاروں کے نام جاری کیے ہیں، جو کراکس میں ہونے والی امریکی کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے۔
جاری کردہ فہرست کے مطابق ان میں 21 اہلکار وزارت داخلہ سے تعلق رکھتے تھے، جن میں تین سینئر افسران شامل تھے، جبکہ باقی اہلکار انقلابی مسلح افواج کا حصہ تھے۔
دوسری جانب وینزویلا کی فوج نے 23 فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔ ان میں پانچ ایڈمرل، مختلف رینک کے 16 سارجنٹس اور دو دیگر فوجی شامل ہیں۔
مزید پڑھیںوینزویلا کے بعد ٹرمپ کا نیا ہدف، گرین لینڈ پر قبضے کیلئے عسکری آپریشن پر غور شروع
وینزویلا کا تیل امریکا کے کنٹرول میں؟ ٹرمپ کے بیان نے ہلچل مچا دی
وینزویلا کے ملٹری آپریشن میں بہت سے فوجی مارے گئے؛ ٹرمپ کے انکشاف نے ہلچل مچادی
وینزویلا کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ اہلکار شدید فائرنگ اور جھڑپوں کے دوران ہلاک ہوئے۔
ایک امریکی اخبار کے مطابق امریکی حکام کا اندازہ ہے کہ اس کارروائی کے دوران مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 75 کے قریب ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جھڑپیں کراکس میں صدر نکولس مادورو کے کمپاؤنڈ کے قریب ہوئیں جہاں شدید لڑائی دیکھی گئی۔
واضح رہے کہ امریکا نے ہفتے کے روز وینزویلا میں فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو صدارتی محل سے گرفتار کر کے امریکا منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کے خلاف منشیات اور دہشت گردی سے متعلق مقدمات چلائے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فوجی اہلکاروں وینزویلا کے کے مطابق
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔