سوڈان: رہائشی گھر پر ڈرون حملہ،8 بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سوڈان میں جاری خونریز تنازع ایک بار پھر معصوم جانوں پر قہر بن کر ٹوٹ پڑا، جہاں ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے متعدد افراد، جن میں کمسن بچے بھی شامل تھے، جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ سوڈان کے شہر العبید میں پیش آیا، جہاں ایک رہائشی گھر کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، حملے میں مجموعی طور پر 13 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 8 بچے بھی شامل ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کی اکثریت کا تعلق ایک ہی خاندان سے بتایا جا رہا ہے، حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور مقامی افراد نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششیں کیں، تاہم متعدد جانیں بچائی نہ جا سکیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ ڈرون حملہ ایک ایسے علاقے میں کیا گیا جو اس وقت سوڈانی فوج کے کنٹرول میں ہے، جبکہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) نے کارروائی کی۔ تاہم تاحال کسی گروہ نے باضابطہ طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
سوڈان میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان کشیدگی گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ ایک شدید مسلح تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
اس طویل اور خونی تنازع کے دوران ہزاروں شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ حالیہ ڈرون حملہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جاری جنگ کا سب سے بڑا خمیازہ عام شہری، خصوصاً بچے، بھگت رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن