نائجیریا میں مسلح گروہوں کا خونریز حملہ، 30 سے زائد افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
نائیجریا میں مسلح گروہوں نے ایک حملے کے دوران 30 سے زائد افراد کو قتل اور متعدد کو اغوا کر لیا۔
یہ واقعہ اسی ریاست میں پیش آیا جہاں گزشتہ سال کے آخر میں سینکڑوں اسکول کے بچوں کو اغوا کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا نائیجیریا میں داعش کے خلاف فضائی حملہ، متعدد شدت پسند ہلاک
میڈیا رپورٹس کے مطابق، مسلح گروہ مغربی نائیجریا کی نائجر ریاست کے کابے ضلع میں واقع قصوان داجی گاؤں کے ایک بازار کو آگ لگا دی اور بعد ازاں دکانوں سے خوراک لوٹ لی۔
نائیجر ریاست کے پولیس ترجمان، واسیع ابیودن نے بتایا کہ مذکورہ حملے کے دوران 30 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ کئی افراد کو اغوا بھی کیا گیا۔
Over 30 people were killed and several others, including children, were kidnapped by "bandits" in Nigeria's Niger state.
— DW News (@dwnews) January 4, 2026
صدر بولا تینوبو کے دفتر نے کہا ہے کہ حملہ آور ممکنہ طور پر وہ ’دہشت گرد‘ تھے جو شمال مغربی نائیجریا میں امریکی فضائی حملوں کے بعد فرار ہو رہے تھے۔
یہ فضائی حملے کرسمس کے روز کیے گئے تھے اور ان کا ہدف داعش سے منسلک شدت پسند تھے۔
صدر تینوبو نے اپنے میڈیا مشیر بایو اونانوگا کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ حملہ آوروں اور ان کے مددگاروں کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: نائیجیریا نے عیسائیوں کا قتل عام نہ روکا تو فوجی کارروائی کریں گے، ٹرمپ کی دھمکی
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے دیکھی گئی تصاویر میں بعض مقتولین کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے دکھائی دیے۔
نائیجریا میں یہ مسلح گروہ، جنہیں مقامی طور پر ’بینڈٹس‘ کہا جاتا ہے، اکثر تاوان کے لیے اجتماعی اغوا کرتے ہیں اور دیہات کو لوٹتے ہیں۔
نائیجر ریاست حالیہ مہینوں میں ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاستوں میں شامل ہے۔
مزید پڑھیں: نائیجیریا میں جنگلی حیات کی ہلاکتوں کی تحقیقات کا اعلان
نومبر میں مسلح گروہوں نے اسی ریاست میں ایک کیتھولک اسکول سے 250 سے زائد طلبا اور عملے کے افراد کو اغوا کر لیا تھا۔
حکام نے بعد میں انہیں 2 مرحلوں میں رہا کرنے کا اعلان کیا، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا تاوان ادا کیا گیا یا نہیں۔
تازہ حملہ اس گاؤں سے 20 کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر ہوا جہاں سے طلبا اور اساتذہ کو اغوا کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: نائیجیریا: مسلح افراد نے 24 طالبات سمیت 30 افراد کو اغوا کر لیا
مقامی چرچ نے ہفتے کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے زائد بتائی ہے، جو پولیس کے اعداد و شمار سے زیادہ ہے۔
نائیجریا کے وزیرِ اطلاعات محمد ادریس نے کہا کہ بازار پر حملے کے دوران گولیاں مذہب دیکھ کر نہیں چلائی گئیں۔
’ہلاک اور اغوا ہونے والوں میں مسلمان اور عیسائی دونوں پس منظر سے تعلق رکھنے والے تاجر، کسان، والدین اور اسکول کے بچے شامل تھے۔‘
مزید پڑھیں: نائیجیریا کے لیے بک کرائے گئے کنٹینر سے ایک کروڑ 82 لاکھ 57 ہزار 700 نشہ آور گولیاں برآمد
نائیجریا کی سیکیورٹی فورسز ملک کے مختلف حصوں میں درپیش چیلنجز کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
افریقہ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک متعدد تنازعات کا سامنا کر رہا ہے۔
جن میں طویل عرصے سے جاری جہادی بغاوت، مسلح گروہ، کسانوں اور چرواہوں کے درمیان جھڑپیں اور جنوب مشرقی علاقے میں علیحدگی پسند تحریکیں شامل ہیں۔
ان تنازعات میں مسلمان اور عیسائی دونوں مارے جا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افریقہ پولیس چرچ سیکیورٹی فورسز عیسائی کلومیٹر محمد ادریس مسلمان نائجیریا وزیر اطلاعات
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افریقہ پولیس سیکیورٹی فورسز کلومیٹر نائجیریا وزیر اطلاعات مزید پڑھیں افراد کو کو اغوا اغوا کر کیا گیا
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔