25 ہزار خواتین نکلیں گی تو بیماریاں بھاگ جائیں گی، پنجاب کی بیٹی کسی سے کم نہیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر پنجاب کی بیٹی ڈٹ جائے تو صوبے کی تقدیر بدل سکتی ہے، پنجاب کی بیٹی کسی سے کم نہیں اگر وہ محنت کرے تو سب کچھ حاصل کر سکتی ہے۔ لاہور میں کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پنجاب کی خواتین باہمت ہیں، پنجاب کی خواتین اپنی صلاحیت سے صوبے کی قسمت بدل دیں گی، پنجاب کی خواتین جو چاہیں اپنی ہمت سے حاصل کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اب بیمار لوگوں کا ہسپتال آنے کا انتظار نہیں کرے گی، اب ہم بیمار لوگوں کے علاج کیلئے اُن کے گھر خود جائیں گے، اب کوئی شہر گلی اور محلہ ایسا نہیں رہے گا کہ جہاں تک ہماری ٹیمیں نا پہنچیں۔ان کا کہنا تھا کہ 25 ہزار کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز جب میدان عمل میں نکلیں گی تو پنجاب سے بیماریاں دور بھاگ جائیں گی، فیلڈ ہسپتال گاؤں گاؤں جا کر علاج کر رہے ہیں، ستھرا پنجاب منصوبہ دنیا بھر میں مقبول ہوا، ابھی آپ کی تنخواہ 50 ہزار ہے، آپ لوگ مجھے کام کر کے دکھاؤ میں آپ کی تنخواہ بڑھاؤں گی، جب آپ لوگ اچھا کام کریں گے تو میں خود آپ کی تنخواہ بڑھاؤ گی۔ مریم نواز نے کہا کہ چاہتی ہوں کہ لوگوں کو چل کر ہسپتال نہ جانا پڑے ہسپتال خود چل کر عوام تک آئے، آپ لوگوں کی مدد سے پتہ چلے گا کہ پنجاب میں کون سی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں کارڈیالوجی ہسپتال بن رہے ہیں، کوئی سوچ سکتا تھا کہ جھنگ میں کارڈیالوجی ہسپتال بنے گا، ایک مریم آپ کے سامنے کھڑی ہے اور میرے سامنے آپ سب مریم کھڑی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔