امریکا کے سابق صدر جو بائیڈن کو صدارت ختم ہونے کے بعد امریکی تاریخ کی سب سے زیادہ ریٹائرمنٹ پنشن مل رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، 83 سالہ جو بائیڈن کو سالانہ تقریباً 4 لاکھ 17 ہزار ڈالر پنشن دی جا رہی ہے، جو ان کی بطور صدر سالانہ تنخواہ 4 لاکھ ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔

نیشنل ٹیکس پیئر یونین فاؤنڈیشن کے نائب صدر ڈیمین بریڈی کے تجزیے کے مطابق یہ رقم امریکی تاریخ میں کسی بھی سابق صدر کو ملنے والی سب سے بڑی پنشن ہے۔ یہ سابق صدر باراک اوباما کی ریٹائرمنٹ آمدن سے بھی تقریباً دوگنی بتائی جا رہی ہے۔

جو بائیڈن کی یہ زیادہ پنشن ان کے طویل سیاسی کیریئر کا نتیجہ ہے۔ وہ چار دہائیوں سے زائد عرصے تک امریکی سینیٹ کے رکن رہے، اس کے بعد نائب صدر اور پھر صدر کے عہدے پر فائز رہے۔ اس طویل سرکاری خدمت کے باعث انہیں مختلف سرکاری پنشن اسکیموں سے فائدہ حاصل ہوا۔

تفصیلات کے مطابق، سابق صدر کی حیثیت سے بائیڈن کو سالانہ تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر ملتے ہیں، جبکہ کانگریس کی سول ریٹائرمنٹ اسکیم کے تحت بھی انہیں اضافی رقم دی جاتی ہے، جو مجموعی طور پر 4 لاکھ 17 ہزار ڈالر سالانہ تک پہنچتی ہے۔

پنشن کے علاوہ، امریکی قانون کے تحت سابق صدور کو دفاتر، عملہ اور دیگر سرکاری سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

2026 کے بجٹ میں جو بائیڈن کے لیے 15 لاکھ ڈالر سے زائد مختص کیے گئے ہیں، جن میں دفتر کے کرائے کی مد میں سب سے زیادہ رقم شامل ہے۔ ان مراعات پر کانگریس میں تنقید بھی کی جا رہی ہے، تاہم تاحال ان میں کمی سے متعلق کوئی نیا قانون منظور نہیں ہو سکا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جو بائیڈن رہی ہے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا

ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔

 ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔

 آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ 

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔

 قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔ 

 وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔

 اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
 

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان