بھارت میں ہماری برادری پر تہوار کے موقع پر مظالم ڈھائے گئے: بشپ فریڈرک جون
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
بشپ فریڈرک جون کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہماری برادری پر تہوار کے موقع پر مظالم ڈھائے گئے، میں حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور بھارتی حکومت کے اقدامات پر اظہار مذمت کرتا ہوں۔
کراچی میں بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسیحی برادری کو جس طرح ہندوستان میں تنگ کیا جاتا ہے اس حوالے سے احتجاج ریکارڈ کرتا ہوں۔
بشپ فریڈرک جون کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرسمس پر سیکیورٹی اداروں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، بھارت میں مسیحیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بین المذاہب کانفرنس خواہش نہیں بلکہ وقت کی ضرورت ہے، سیکیورٹی اداروں کی جانب سے سیکیورٹی فراہم کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایمان کوئی خاندانی وراثت نہیں ہوتا بلکہ یہ انسان کا ذاتی فیصلہ ہوتا ہے، کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کو یاد رکھنے پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کرتا ہوں
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔