اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے حکومتی حکمت عملی تیار، وزیراعظم نے گرین سنگنل دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
وفاقی حکومت نے اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے حکمت عملی تیار کرلی ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے اس عمل کے آغاز کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے، تاہم اپوزیشن کے اندر اختلافات کے باعث بات چیت کا عمل تاحال تعطل کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت سیاسی مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو کوئی ایک مثبت قدم اٹھائے، پی ٹی آئی
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر حکومت نے اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے باقاعدہ حکمت عملی کو حتمی شکل دی ہے، جس کا مقصد ملک میں سیاسی کشیدگی میں کمی اور استحکام پیدا کرنا ہے۔ اسی منصوبے کے تحت وزیراعظم نے قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کو مذاکراتی عمل شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مذاکرات صرف تحریک انصاف کے منتخب پارلیمانی نمائندوں سے کیے جائیں گے، جبکہ منتخب قیادت کے علاوہ کسی اور فرد یا گروپ سے بات چیت نہیں ہوگی۔
حکومت کی جانب سے ایک وفد بھی تیار ہے جو اسپیکر کی درخواست پر فوری طور پر مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات موجودہ پارلیمنٹ کو ختم کرنے کے لیے ہوں گے، محمود اچکزئی، اسمبلیوں سے استعفوں کا بھی عندیہ
ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو اپنے چیمبر میں آ کر مذاکرات شروع کرنے کی دعوت دی ہے۔ اگر اپوزیشن آمادگی ظاہر کرے تو اسپیکر قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلانے پر بھی تیار ہیں۔
تاہم اب تک کسی اپوزیشن رہنما نے باضابطہ طور پر اسپیکر سے رابطہ نہیں کیا، جس کے باعث مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔
دوسری جانب تحریک انصاف نے مذاکرات کو قائد حزب اختلاف کی تقرری سے مشروط کر دیا ہے، پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ جب تک محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مقرر نہیں کیا جاتا، اس وقت تک کسی قسم کی بات چیت ممکن نہیں۔
تحریک انصاف کے رہنماؤں اور اسپیکر قومی اسمبلی کے درمیان ہونے والی آخری ملاقات بھی صرف اسی مطالبے کے گرد گھومتی رہی، جس میں قائد حزب اختلاف کی تقرری کے علاوہ کسی اور سیاسی مفاہمت یا مذاکراتی ایجنڈے پر بات نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں: سیاسی مذاکرات: پی ٹی آئی کے کچھ مطالبات کا جواب ہاں، کچھ کا ناں میں ہوگا، رانا ثنااللہ
حکومت کا مؤقف ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعے مذاکرات ہی سیاسی استحکام کی واحد راہ ہیں اور اس حوالے سے مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق اب یہ اپوزیشن پر منحصر ہے کہ وہ اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرے اور اسپیکر کی پیشکش پر مثبت ردعمل دے، جس کے بعد ہی سیاسی مکالمے کا آغاز ممکن ہوسکے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اپوزیشن حکمت عملی حکومت سیاسی مذاکرات گرین سنگنل وزیراعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن حکمت عملی حکومت سیاسی مذاکرات قومی اسمبلی تحریک انصاف سے مذاکرات حکمت عملی کے لیے
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ