پاکستانی سکیورٹی فورسز کے پیچھے پاکستانی پولیٹکل فورسز یک زبان نہیں: طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے پیچھے تمام سیاسی قوتیں یک زبان نظر نہیں آتیں۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ اس حوالے سے سب سے نمایاں فرق پاکستان تحریک انصاف اور خیبر پختونخوا میں اس کی حکومت کی جانب سے سامنے آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ این ایف سی سے متعلق معاملات میں فنڈز کے لیے اجلاسوں میں تو شریک ہوتے ہیں، لیکن وزیراعظم کی زیر صدارت دہشت گردی کے خلاف ہونے والے اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتے۔
انہوں نے بتایا کہ عوامی سطح پر بیانات دینے سے قبل پس پردہ متعدد کوششیں کی گئیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر سیاسی اتفاقِ رائے قائم کیا جا سکے۔ طلال چوہدری کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے آئی جی اور چیف سیکرٹری کو یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ اس جنگ میں شامل نہیں ہوں گے، کیونکہ ایسا کرنے سے انہیں اے این پی، پیپلز پارٹی، ن لیگ اور جے یو آئی ایف جیسی جماعتوں کی صف میں کھڑا ہونا پڑے گا۔
وزیرِ مملکت نے کہا کہ یہ ایک مخصوص بیانیہ ہے، جس کے پیچھے پی ٹی آئی کی قیادت ہے، اور ان کے نزدیک ریاست جتنی زیادہ دباؤ اور انتشار کا شکار ہوگی، اتنا ہی انہیں سیاسی فائدہ حاصل ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل طلال چوہدری
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔