60 سال سے ملک میں ہائبرڈ حکومتیں ہیں، شاہد خاقان
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کے موجودہ حالات کے ہم سب یکساں ذمے دار ہیں۔
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے تحت قومی ڈائیلاگ سے خطاب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 60 سال سے ملک میں ہائبرڈ حکومتیں ہیں، جب تک سب بیٹھیں گے نہیں، حالات بہتر نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خرابیوں کے ذمے دار سب ہیں، میں ایسے شخص یا ادارے کو نہیں جانتا جو ملکی حالات کا ذمے دار نہ ہو۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ ڈائیلاگ کا عمل ہمیشہ ہی پائیدار نتیجہ دیتا ہے۔
سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملکی مسائل اور معاملات کا نتیجہ معیشت کی حالت سے نظر آتا ہے، جب میڈیا آزاد نہیں ہوتا خرابی ہوتی ہے تو اس کے اثرات معیشت پر نظر آتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ملک میں انتشار ہو گا تو ملک نہیں چلے گا، اس ملک کے حالات کے ہم سب یکساں طور پر ذمے دار ہیں، ملک میں جب قانون کی حکمرانی نہ ہو تو اس کے اثرات معیشت پر آتے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے یہ بھی کہا کہ بانی چیئرمین بھی حکومت کرچکے ہیں، ان کے پاس آج بھی حکومت ہے، یہ مسئلہ بانی چیئرمین کی رہائی کا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ 38 ارب ڈالر بیرون ملک سے لوگوں نے گزشتہ سال پاکستان بھیجے ہیں، ملک کے حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، حل اس طرح بیٹھ کر ملے گا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ آپ نے آئین کو توڑ موڑ کر رکھ دیا، اس وجہ سے خرابی ہوئی، سیاستدان، فوج، ججز، تاجروں سب کو مل کر بیٹھ کر بات کرنا ہوگا۔
اُن کا کہنا تھا کہ حب الوطنی کے دعوے سب کرتے ہیں لیکن ملک کےجو حالات ہیں وہ حب الوطنی والے نہیں، اس ملک پر حقیقتاً اشرافیہ کا قبضہ ہے، آج ناکامی لیڈرشپ کی وجہ سے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شاہد خاقان نے کہا کہ ملک میں
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔