ویب ڈیسک : حکومتِ جاپان نے پاکستانی اساتذہ کے لیے میکسٹ ٹیچرز ٹریننگ اسکالرشپ 2026 کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اسکالرشپ کے تحت ایسے اساتذہ کو موقع فراہم کیا جائے گا جو اسکول ایجوکیشن کے شعبے میں تحقیق اور پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں اور جاپان کی جامعات میں تدریسی نظام کا عملی تجربہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

جاری کردہ اعلامیے کے مطابق منتخب امیدوار جاپان کی کسی یونیورسٹی میں نان ڈگری ٹیچرز ٹریننگ اور ریسرچ پروگرام میں حصہ لیں گے۔ یہ پروگرام بیچلرز، ماسٹرز یا پی ایچ ڈی ڈگری پر مشتمل نہیں ہوگا بلکہ اسے مکمل طور پر پیشہ ورانہ تربیت اور اسکول ایجوکیشن میں تحقیق کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ پروگرام کی کامیاب تکمیل پر شرکا کو سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔یہ اسکالرشپ جاپان کی وزارتِ تعلیم، ثقافت، کھیل، سائنس اور ٹیکنالوجی (میکسٹ) کی جانب سے پیش کی جا رہی ہے۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پروگرام کا آغاز عموماً اکتوبر میں ہوتا ہے جبکہ تدریسی سرگرمیوں سے قبل جاپانی زبان کی تربیت بھی فراہم کی جائے گی، کیونکہ زیادہ تر کورسز اور تحقیقی رہنمائی جاپانی زبان میں کی جاتی ہے۔

گھڑ سواری میں پاکستان کا تاریخی اعزاز، عثمان خان عالمی رینکنگ میں سرفہرست

اہلیت کے معیار کے مطابق درخواست گزار کی تاریخ پیدائش 2 اپریل 1991 یا اس کے بعد کی ہونی چاہیے۔ امیدوار کے پاس یونیورسٹی ڈگری یا ٹیچر ٹریننگ کی اہلیت ہونا لازمی ہے اور یکم اکتوبر 2026 تک پرائمری یا سیکنڈری سطح پر، یا کسی ٹیچر ٹریننگ ادارے میں کم از کم پانچ سالہ تدریسی تجربہ ہونا ضروری ہے۔ تاہم یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران اس اسکالرشپ کے لیے درخواست دینے کے اہل نہیں ہوں گے۔

اس کے علاوہ امیدوار میں یہ صلاحیت بھی ہونی چاہیے کہ وہ تقریباً 18 ماہ تک غیر ملکی ثقافتی ماحول میں رہ کر تعلیم اور تحقیق کر سکے، ساتھ ہی جاپانی زبان سیکھنے کی آمادگی بھی ضروری قرار دی گئی ہے۔

نجی یونیورسٹی کی زخمی طالبہ کے علاج کیلئےقائم میڈیکل بورڈ کی تشکیل نو

درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 فروری 2026 ہے، جبکہ مزید تفصیلات اور درخواست دینے کا مکمل طریقہ کار پاکستان میں جاپان کے سفارت خانے کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

https://www.

pk.emb-japan.go.jp/itprtop_en/index.html 

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
 تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ