نیشنل ڈائیلاگ کانفرنس: سیاسی کمیٹیاں بنائی جائیں، قیدیوں کی رہائی اور میڈیا کی آزادی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی زیر اہتمام ہونے والی قومی ڈائیلاگ کانفرنس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے طریقہ کار اور سیاسی ماحول بہتر بنانے کے لیے اہم تجاویز پیش کی گئیں، اجلاس میں سیاسی جماعتوں، وکلاء اور دانشوروں نے شرکت کی اور ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق مذاکرات کے لیے دو طرفہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، حکومتی کمیٹی میں وزیراعظم شہباز شریف، سابق وزیراعظم نواز شریف اور صدر مملکت شامل ہوں گے، جبکہ اپوزیشن کمیٹی سیاسی قیدیوں تک رسائی حاصل کرے گی، سیاسی کارکنان کو رہا کیا جائے، سیاسی مقدمات ختم کیے جائیں اور میڈیا پر عائد سینسر شپ ختم کی جائے۔
کانفرنس میں سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی استحکام بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے اور دہشت گردی کے خلاف فورسز کو ہر طرح کا تعاون فراہم کیا جانا چاہیے۔ حفیظ اللہ نیازی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ممکنہ تعاون پر زور دیا جبکہ بیرسٹر سیف علی خان نے کہا کہ اعتماد کا ماحول قائم کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ سیاسی عدم استحکام پیدا نہ ہو۔
اعلامیے کے مطابق ایسوسی ایٹڈ فریقین نے شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی اور نیشنل ڈائیلاگ کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا، اپوزیشن کمیٹی سیاسی قیدیوں کے ساتھ مل کر ڈائیلاگ آگے بڑھائے گی، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر اپوزیشن لیڈر تعینات کیا جائے گا اور خواتین سیاسی ورکروں کو فوری طور پر رہا کیا جائے گا۔
کانفرنس میں یہ بھی طے پایا کہ آئندہ اجلاس ملتان میں منعقد ہوگا، جس میں مذاکرات کی رفتار اور عمل درآمد پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔
دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.