ملکی تاریخ کے سب سے بڑے انعامی رقم کا اسکواش ٹورنامنٹ کوارٹر فائنل مرحلے میں داخل
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے انعامی رقم کا کراچی اوپن انٹرنیشنل اسکواش ٹورنامنٹ2026 کوارٹر فائنل مرحلے میں داخل ہو گیا، عالمی انڈر23 چیمپین اور عالمی نمبر 38 نور زمان نے اپ سیٹ فتح حاصل کرلی، وائلڈ کارڈ انٹری پانے والے سابق قومی چیمپین ناصر اقبال شکست کھا بیٹھے،محمد اشعب عرفان بھی ناکامی سے دوچار ہوکر ایونٹ سے باہر ہو گئے، ہانگ کانگ کے ایلیکس لیو نے بھی اپ سیٹ کیا،دیگر تمام سیڈڈ کھلاڑی اگلے مرحلے میں پہنچ گئے۔
تفصیلات کے مطابق ڈی اے کریک کلب پر جاری2لاکھ 43ہزار5سو ڈالرز کی انعامی رقم والے ٹورنامنٹ کے مینز ایونٹ میں سابق عالمی چیمپین قمر زمان کے پوتے نور زمان نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی نمبر 15 اور سیڈ 8 مصر کے فیرس ڈیوسکی کو 60 منٹ کے سنسنی خیز مقابلے میں 2-3 سے زیر کرلیا۔
پہلے دونوں گیمز ہارنے کے بعد نور زمان نے اگلے تینوں گیمز میں کامیابی پاکر کوارٹر فائنل میں قدم رکھ دیا،سابق قومی چیمپین ناصر اقبال کو عالمی رینکنگ میں 11 ویں پوزیشن کے حامل ورلڈ جونیئر چیمپین مصر کے محمد ذکریا نے 1-3 سے ٹھکانےلگا دیا،یہ مقابلہ53 منٹ تک جاری رہا، عالمی نمبر 47 محمد اشعب عرفان کو ٹاپ سیڈ و عالمی نمبر4 مصر کےکریم الجواد نے سخت مقابلے کے بعد 2-3 سے شکست دے دی۔
عالمی نمبر 41 ہانگ کانگ کے الیکس لیونے سیڈ3 و عالمی نمبر6 یوسف ابراہیم کو 2-3 ہرا کر اپ سیٹ کیا،سیڈ2وعالمی نمبر 7مروان الشوربے(مصر) نے عالمی نمبر 64 توفیق میخائل(فرانس)،سیڈ4 و عالمی نمبر9 محمد الشورباگے(مصر) نےہموطن عالمی نمبر49 کریم الحمامے،سیڈ6 وعالمی نمبر14 آل ابوالعنین(مصر) نے ہموطن عالمی نمبر 35 یحییٰ النواسنے،سیڈ7 وعالمی نمبر17 ایان یونگ(ملائشیا) نے عالمی نمبر34ایکرپجاریز(اسپین) کو ہرا کرکوارٹر فائنل میں رسائی پالی۔
ویمن ایونٹ میں ٹاپ سیڈ و عالمی نمبر 3امینہ عرفی(مصر) نے ہموطن عالمی نمبر 51حیا علی،سیڈ 2 و عالمی نمبر7سیوا سانگری مبینہم (ملائشیا) نے عالمی نمبر48نادین شاہین(مصر)،سیڈ3و عالمی نمبر 9فیروز ابوالخیر(مصر ) نے عالمی نمبر 34سن یوک جان(ہانگ کانگ)،سیڈ4و عالمی نمبر 13نادا عباس(مصر) نے ہموطن عالمی نمبر 35مریم میٹوالے، سیڈ5و عالمی نمبر 15 فریدہ محمد(مصر) نے ہموطن عالمی نمبر46 امینہ الریحانے،سیڈ6و عالمی نمبر24 آئرہ اذمان(ملائشیا) نے عالمی نمبر 41نور ابوالمکرم(مصر)،سیڈ7 و عالمی نمبر 30 لوسی ٹرمیل(انگلینڈ) نےہموطن عالمی نمبر 42ٹوری ملک اور سیڈ8 و عالمی نمبر 33 عائفہ اذمان(ملائیشیا) نے عالمی نمبر43 نادین گیرس(مصر) کو ہرا دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے ہموطن عالمی نمبر نے عالمی نمبر عالمی نمبر
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔