آخری کال، ڈیلیٹ نمبر اور نامکمل خواب — فاطمہ خودکشی کیس کے چونکا دینے والے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
لاہور میں نجی یونیورسٹی کی طالبہ فاطمہ کی جانب سے خودکشی کی کوشش کے واقعے سے متعلق اصل حقائق سامنے آگئے ہیں۔ ایکسپریس نیوز کو پولیس ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق فاطمہ اپنے آبائی علاقے نارنگ منڈی کے رہائشی احمد نامی نوجوان کو پسند کرتی تھی اور اس سے شادی کی خواہشمند تھی، تاہم اہل خانہ اس رشتے پر رضامند نہیں تھے اور فاطمہ کو تعلیم جاری رکھنے پر زور دے رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق اسی ذہنی دباؤ اور پسند کی شادی نہ ہونے پر دلبراشتہ ہو کر طالبہ نے خودکشی کی کوشش کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چھلانگ لگانے سے قبل فاطمہ نے آخری بار فون پر احمد سے بات کی اور بعد ازاں اس کا نمبر موبائل فون سے ڈیلیٹ کر دیا۔ پولیس کے مطابق طالبہ کے اہل خانہ نے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے، جبکہ فاطمہ اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہے اور تاحال ہوش میں نہیں آئی۔ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک