بھارت میں آر ایس ایس کی انتہا پسندی، اقلیتوں کے خلاف تشدد میں خوفناک اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
بھارت میں ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات نے ملک کے نام نہاد سیکولر تشخص پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ دنوں راجستھان اور بہار میں پیش آنے والے خونریز واقعات نے بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
معتبر بھارتی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ واقعات کسی انفرادی جھگڑے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم نظریے اور سیاسی سرپرستی کے تحت کیے جانے والے تشدد کی کڑیاں ہیں۔
دی ہندوستان گزٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست بہار میں ایک مسلمان مزدور نرشید عالم کو آر ایس ایس سے وابستہ شرپسند عناصر نے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مظلوم مزدور کو نہ صرف شدید جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اس سے زبردستی ہندوتوا نظریے کے تحت جے شری رام اور بھارت ماتا کی جے کے نعرے بھی لگوائے گئے۔
سماجی کارکن ضیا الحق نے دی ہندوستان گزٹ کو بتایا کہ نرشید عالم اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہے اور اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جہاں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔
اُدھر برطانوی میڈیا ادارے 5 Pillars نے بھی ایک واقعے کی تفصیلات شائع کیں، جس کے مطابق راجستھان میں ایک بزرگ مسلمان کو ہندوتوا نظریے سے وابستہ شدت پسندوں نے جھوٹے الزامات کے تحت وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
بھارتی صحافی وقار حسن کے مطابق متاثرہ شخص پر گائے کا گوشت کھانے کا الزام لگا کر اسے بنگلا دیشی قرار دیا گیا اور سڑک پر گھسیٹ کر تشدد کیا گیا، جب کہ موقع پر موجود افراد خوف کے باعث خاموش تماشائی بنے رہے۔
مقامی افراد اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعات کسی حادثے یا ذاتی تنازع کا نتیجہ نہیں بلکہ مودی حکومت کی سیاسی پشت پناہی میں انتہا پسند عناصر کی منظم کارروائیاں ہیں، جن کا مقصد بھارت میں مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا اور انہیں دوسرے درجے کا شہری ثابت کرنا ہے۔ گودی میڈیا بھی ان واقعات پر یا تو خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے یا انہیں غلط رنگ دے کر ہندوتوا سیاست کو فروغ دینے میں مصروف ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد، نفرت انگیز نعروں، جھوٹے الزامات اور ہجوم کے ہاتھوں سزاؤں کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ خطے کے امن اور بھارت کے عالمی تشخص کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔
عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور مظلوم طبقات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بھارت میں کے مطابق کے خلاف تشدد کا
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔