ٹِک ٹاک پر بے وفائی کرتے پکڑے جانیوالے شوہر نے ریسٹورنٹ پر مقدمہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اٹلی میں بیوی سے بے وفائی کرنے والے ایک شخص نے ٹِک ٹاک پر بغیر اجازت اپنی اشتہاری ویڈیو جاری کرنے پر ریسٹورنٹ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔
ریسٹورنٹ کی جاری کردہ ویڈیو بے وفا شوہر کی اہلیہ نے دیکھی اور اس کو بطور ثبوت استعمال کرتے ہوئے خاتون نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی۔ جس کے بعد شوہر نے پرائیوسی میں دراندازی کرنے پر ریسٹورنٹ پر مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
فی الحال یہ بات واضح نہیں کہ شوہر کی یہ پروموشنل ٹک ٹاک ویڈیو اہلیہ کے سامنے خود بخود آگئی یا پھر کسی نے شوہر کو پہچان کر ان کی اہلیہ کو یہ ویڈیو بھیجی۔ تاہم، اہم بات یہ ہے کہ ویڈیو میں اہلیہ نے اپنے خاوند کو کسی اور خاتون کے ساتھ دیکھا تھا جبکہ خاوند نے ان کو بتایا تھا کہ وہ اپنے دفتر کے ساتھیوں کے ساتھ ڈنر پر جا رہے ہیں۔
عوامی سطح پر بے وفائی کا دکھ سہنے کے بعد خاتون نے اپنے خاوند کے ساتھ رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور ان کو گھر سے نکال دیا۔
جب 42 سالہ شوہر کو یہ معلوم ہوا کہ ان کی اہلیہ کو ان کی بے وفائی سے متعلق ریسٹورنٹ کی پروموشنل ویڈیو سے علم ہوا ہے تو انہوں نے ریسٹورنٹ کے مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا اور دعویٰ کیا ان کی پرائیوسی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بے وفائی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔