ایران میں مظاہرے جاری، صدرکا سکیورٹی فورسز کو مظاہرین کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
ایران میں مظاہرے جاری، صدرکا سکیورٹی فورسز کو مظاہرین کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم WhatsAppFacebookTwitter 0 7 January, 2026 سب نیوز
تہران(آئی پی ایس ) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں جاری مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کو شہریوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم دے دیا۔ بدھ کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سکیورٹی فورسز کو حکم دیا ہے کہ وہ احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف کریک ڈان نہ کریں۔ایرانی صدر نے سکیورٹی فورسز کو پرامن مظاہرین اور مسلح شرپسندوں کے درمیان واضح فرق کرنے کی ہدایت دی۔
کابینہ اجلاس کے بعد جاری کی گئی ایک ویڈیو میں نائب صدر محمد جعفر نے بھی بتایا کہ صدر پزشکیان نے مظاہرین کے خلاف کسی بھی قسم کے سکیورٹی اقدامات نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا جو لوگ اسلحہ، چاقو اور چھریاں لے کر پولیس اسٹیشنز اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرتے ہیں، وہ شرپسند ہیں اور ہمیں مظاہرین اور شرپسندوں کے درمیان فرق کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور اس دوران جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 35 ہوچکی ہے۔
تہران میں ایرانی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ایرانی آرمی چیف،جنرل امیر حاتمی نیخبردارکیاہے کہ، ایران، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کے معاملے پر خاموش نہیں رہیگا۔ ایرانی قومی سلامتی کونسل نے بھی ملک کے خلاف جاری سازشوں پر سخت انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ مخاصمت آمیز اقدامات جاری رہے تو دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ایران کی سلامتی، خودمختاری اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتیرہ سال بعد ڈھاکا سے پہلی براہ راست پرواز 29 جنوری کو کراچی پہنچے گی تیرہ سال بعد ڈھاکا سے پہلی براہ راست پرواز 29 جنوری کو کراچی پہنچے گی انڈونیشیاء ،پاکستانی سفیر زاہد حفیظ کی وزیر تجارت سے ملاقات حکومت اور اپوزیشن کی مذاکرات کیلئے آگے بڑھیں: نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی وزیر داخلہ کی چینی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات سمیت اہم امور پر گفتگو عمران خان اور بشری بی بی کی جیل میں ملاقات، دونوں 45 منٹ تک اکٹھے رہے اسٹاک ایکسچینج کا نیا ریکارڈ: ایک لاکھ 87 ہزار پوائنٹس کی سطح عبورCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز کو نہ کرنے کا حکم کے خلاف
پڑھیں:
حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔
امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔
ترجمان کے مطابق اہلکار پر آپریشنل اور معلوماتی سکیورٹی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ میرین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔