امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، دونوں ممالک درحقیقت صرف امریکا سے خوفزدہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یوکرین جنگ ختم کرانے کی کوششیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا صدر پیوٹن سے پھر ٹیلیفونک رابطہ

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر وہ مداخلت نہ کرتے تو آج پورا یوکرین روس کے قبضے میں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ نیٹو کے ساتھ کھڑے رہیں گے، چاہے نیٹو ممالک امریکا کے ساتھ نہ بھی ہوں۔

امریکی صدر کے مطابق ان کی مداخلت کے بعد نیٹو ممالک نے اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کیا اور امریکا نے عالمی سطح پر ایک بار پھر اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: وینزویلا میں چین اور روس کی دلچسپی کیا ہے، امریکا کیوں پریشان ہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دنیا میں اکیلے 8 جنگیں ختم کرائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ناروے کی جانب سے انہیں نوبل امن انعام نہ دینا ایک احمقانہ فیصلہ تھا، تاہم اصل بات یہ ہے کہ ان کی کوششوں سے لاکھوں زندگیاں بچیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا ڈونلڈ ٹرمپ روس نیٹو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو ڈونلڈ ٹرمپ

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم