امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، دونوں ممالک درحقیقت صرف امریکا سے خوفزدہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرین جنگ ختم کرانے کی کوششیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا صدر پیوٹن سے پھر ٹیلیفونک رابطہ
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر وہ مداخلت نہ کرتے تو آج پورا یوکرین روس کے قبضے میں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ نیٹو کے ساتھ کھڑے رہیں گے، چاہے نیٹو ممالک امریکا کے ساتھ نہ بھی ہوں۔
امریکی صدر کے مطابق ان کی مداخلت کے بعد نیٹو ممالک نے اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کیا اور امریکا نے عالمی سطح پر ایک بار پھر اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا میں چین اور روس کی دلچسپی کیا ہے، امریکا کیوں پریشان ہے؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دنیا میں اکیلے 8 جنگیں ختم کرائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ناروے کی جانب سے انہیں نوبل امن انعام نہ دینا ایک احمقانہ فیصلہ تھا، تاہم اصل بات یہ ہے کہ ان کی کوششوں سے لاکھوں زندگیاں بچیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا ڈونلڈ ٹرمپ روس نیٹو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔