وینزویلا کی عبوری حکومت 5 کروڑ بیرل تیل فراہم کریگی، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
واشنگٹن:(ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا سے 30 سے 50 ملین بیرل اعلیٰ معیار کا تیل امریکہ منتقل کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہاکہ یہ تیل امریکہ میں مارکیٹ قیمت پر فروخت کیا جائے گا اور اس کی آمدنی کو وہ خود کنٹرول کریں گے اور اسے امریکی اور وینزویلا کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔صدر ٹرمپ نے وزیر توانائی کو ہدایت کی کہ وہ اس منصوبے پر کام شروع کریں اور تیل کو امریکی بندرگاہوں پر پہنچایا جائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کو حاصل کرنے کیلئے ملٹری آپشن پر غور کر رہے ہیں۔وائٹ ہاؤس کے سینئر عہدے دار کے مطابق صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم گرین لینڈ حاصل کرنے کے معاملے پر غور کر رہی ہے۔۔ اس ضمن میں صدر ٹرمپ اور ان کے مشیر مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مختلف آپشنز میں ڈنمارک سے یہ علاقہ خریدنے یا جزیرے کے ساتھ آزادانہ وابستگی کا معاہدہ کرنے کے امکانات شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔