مدارس کے معاملے پر ہمیں پریشان نہ کیا جائے، ورنہ بڑی آزمائش بن جائیں گے، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مدارس کے معاملے پر ہمیں پریشان نہ کیا جائے۔ ورنہ بڑی آزمائش بن جائیں گے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مدارس کو اپنے قبضے میں لینے کی خواہش رکھتی ہے۔ جبکہ دوسری جانب قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کو نجی ملکیت میں فروخت کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مدارس پہلے ہی نجی ملکیت میں ہیں۔ اور یہاں طلبہ کو گیس، پانی، بجلی، کتابیں اور رہائش مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ اس سے بڑھ کر کوئی اور فلاحی ادارہ نہیں ہو سکتا۔
ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعرات) کا دن کیسا رہے گا ؟
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مدارس اور علما کے پیچھے ڈھائی سو سالہ قربانیوں کی تاریخ موجود ہے۔ اور قرآن و حدیث کے علوم کی حفاظت مدارس کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جو ادارے پہلے علمی مراکز تھے جب وہ دوسروں کے ہاتھ آئے تو ان کی حیثیت کم ہو گئی۔انہوں نے کہا کہ مدارس کی ہر صورت حفاظت کی جائے گی۔ سیاست انبیاء کا وظیفہ ہے اور اگر ہم ان کے وارث ہیں تو ان کے مصلے اور منبر کے بھی وارث ہیں۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ مکالمے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی۔ جبکہ مذاکرات کے نتیجے میں معاہدے ہوئے اور قانون سازی بھی ممکن ہوئی۔ تاہم حکومت کو خبردار کیا کہ مدارس کے معاملے پر دباؤ نہ ڈالا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پریشان نہ کریں۔ ورنہ ہم تمھارے لیے مخالف جماعت سے بڑھ کر آزمائش بن جائیں گے۔
وقارالدین سید کی معطلی ٹیزر، بیوروکریسی کے بے رحم احتساب کی منفرد مثال قائم کرنے کا فیصلہ ، ذرائع
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کہ مدارس مدارس کے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔