ماتلی: اسسٹنٹ کمشنر ومختیار کار کا فوڈاتھارٹی کے ہمراہ مختلف ہوٹلزکا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی (جسارت نیوز)اسسٹنٹ کمشنر ماتلی ثوبان احمد رانجھا اور مختیارکار ماتلی مصب جونیجو نے سندھ فوڈ اتھارٹی کی ٹیم کے ہمراہ ماتلی شہر میں مختلف ہوٹلوں، بیکریوں اور سویٹ شاپس کا تفصیلی معائنہ کیا۔معائنے کے دوران المرتضیٰ ہوٹل، بلوچ ہوٹل، فرینڈز بیکری اور قصرِ شیرین سویٹ شاپ کو چیک کیا گیا۔دورانِ معائنہ صفائی کی ناقص صورتحال، کھانا بنانے کے عمل میں حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی، عملے کی جانب سے دستانے اور ہیڈ کور کا استعمال نہ کرنا، تیار شدہ کھانوں کی غیر معیاری پیکنگ، اشیائے خورونوش کو کھلے میں رکھنا، ایکسپائر اور بغیر لیبل فوڈ آئٹمز کی موجودگی سمیت فوڈ سیفٹی قوانین کی متعدد خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ان خلاف ورزیوں پر متعلقہ ہوٹلوں اور دکانوں پر مجموعی طور پر 35 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ کھلے اور غیر معیاری کوکنگ آئل کے کین بھی تحویل میں لے لیے گئے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ماتلی ثوبان احمد رانجھا نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری، صاف اور محفوظ خوراک کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر آئندہ بھاری جرمانے، دکانوں کی سیلنگ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔مختارکار ماتلی مصب جونیجو نے کہا کہ صفائی اور فوڈ معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ایسے معائنے آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔