او آئی سی کامسٹیک کے زیرِ اہتمام او آئی سی ممالک کے طلبہ کے لیے آن لائن ڈیجیٹل کورسز کا اجرا
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260108-08-6
اسلام آباد(صباح نیوز)او آئی سی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون کامسٹیک نے یو این آئی ادارہ اور چین کے ممتاز تکنیکی تعلیمی اداروں کے اشتراک سے او آئی سی رکن ممالک کے طلبہ کے لیے آن لائن ڈیجیٹل کورسز کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ ان کورسز کا مقصد مسلم دنیا میں ہنرمندی کے فروغ، ڈیجیٹل خواندگی میں اضافہ اور انسانی وسائل کی استعداد سازی کو مضبوط بنانا ہے۔آن لائن کورسز کی افتتاحی تقریب ورچوئل انداز میں منعقد ہوئی، جس میں او آئی سی خطے اور شراکت دار ممالک سے تعلق رکھنے والے ممتاز تعلیمی رہنماؤں، پالیسی سازوں اور صنعتی نمائندگان نے شرکت کی۔ تقریب میں شانشی ٹیکنیکل کالج آف فنانس اینڈ اکنامکس، ہینان انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس اینڈ ٹریڈ، گوانگژو سونگ تیان پولی ٹیکنک کالج اور آئی ٹی ایم سی ٹیکنالوجی کمپنی کے اعلی حکام شریک ہوئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ ڈیجیٹل تعلیم عصرِ حاضر کے سماجی، معاشی اور تکنیکی چیلنجز سے نمٹنے میں نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تہذیب کی تاریخ میں تعلیم ہمیشہ ترقی کی بنیاد رہی ہے اور جدید ڈیجیٹل تعلیمی پلیٹ فارمز اس علمی ورثے کو عالمگیریت اور ٹیکنالوجی کے دور میں مزید وسعت دے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: او ا ئی سی
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔