کراچی کی بریانی نمبر ون، پاکستانی طلبا کے لیے ہمارے وسائل حاضر ہیں، امریکی سفارتکار
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
امریکی سفارت خانے پاکستان میں منسٹر کاؤنسلر برائے پبلک ڈپلومیسی اینڈی ہیلس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکومت کے ایگزم بینک (ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف دی یو ایس) کے اشتراک سے پاکستان کے اہم معدنی منصوبے ریکوڈک میں کئی بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا گیا ہے
وی نیوز ایکسکلوسیو سے گفتگو کرتے ہوئے اینڈی ہیلس نے کہاکہ مائنز اینڈ منرلز کے شعبے میں امریکی کاروباری اداروں کی دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ پاکستانی عوام بھی امریکی کمپنیوں کی آمد کو گہری دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان امریکا تعلقات کو پاک چین دوستی کے تناظر میں نہ دیکھا جائے، اسحاق ڈار
انہوں نے واضح کیا کہ امریکی کمپنیوں کی جانب سے عملی کام کے آغاز کے وقت کا تعین ممکن نہیں، کیونکہ سرمایہ کاری کے فیصلے امریکی حکومت نہیں بلکہ نجی امریکی کمپنیوں کی سطح پر کیے جاتے ہیں۔
تاہم انہوں نے کہاکہ امریکی سفارت خانے میں اس منصوبے کے حوالے سے غیر معمولی دلچسپی دیکھی جا رہی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون کی واضح علامت ہے۔
پاک امریکا تعلقات مضبوط بنیادوں پر استواراینڈی ہیلس نے کہاکہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات اس وقت اپنی بہترین سطح پر ہیں۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان مضبوط روابط دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوط بنیادوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے لیے مثبت بیانات نے عوامی سطح پر بھی خیرسگالی کو فروغ دیا ہے۔
تعلیم اور عوامی روابط تعلقات کا بنیادی ستونامریکی سفارتکار نے تعلیم کو پاک امریکا تعلقات کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں فل برائٹ پروگرام کو 75 برس مکمل ہو چکے ہیں، جس کے تحت اب تک 9 ہزار سے زیادہ پاکستانی طلبہ امریکا کی بہترین جامعات سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ دنیا کا سب سے بڑا فل برائٹ پروگرام پاکستان میں جاری ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد کے ایچ 8 سیکٹر میں یو ایس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن پاکستان (USEFP) کی نئی عمارت قائم کی گئی ہے، جہاں فل برائٹ، انٹرپرینیورشپ پروگرامز، ایجوکیشن یو ایس اے اور فری ریسورس سینٹرز پاکستانی طلبہ اور پیشہ ور افراد کے لیے بلا معاوضہ دستیاب ہیں۔
نوجوانوں کے لیے تعلیمی اور ایکسچینج مواقعاینڈی ہیلس کے مطابق فل برائٹ کے علاوہ انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام (IVLP) سمیت متعدد قلیل المدتی ایکسچینج پروگرام جاری ہیں، جن کے ذریعے پاکستانی پروفیشنلز کو امریکا میں تربیت اور پالیسی ایکسپوژر کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔
’ایجوکیشن یو ایس اے کے دفاتر اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں قائم ہیں، جبکہ آن لائن رہنمائی بھی مفت فراہم کی جا رہی ہے۔‘
امریکی سرمایہ کاری اور روزگارایک سوال کے جواب میں اینڈی ہیلس نے کہاکہ امریکی کمپنیاں جہاں بھی سرمایہ کاری کرتی ہیں وہاں مقامی باصلاحیت افرادی قوت کو ترجیح دیتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ امریکی کاروباری ادارے پاکستان میں سرمایہ کاری کے ذریعے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کررہے ہیں بلکہ مقامی کمیونٹی کو بھی ترقی کے عمل میں شامل کررہے ہیں۔
پاکستانی ثقافت اور مہمان نوازی کی تعریفاینڈی ہیلس نے پاکستانی ثقافت، مہمان نوازی اور کھانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کا اصل قومی کھیل ’مہمان نوازی‘ ہے۔
انہوں نے کراچی کی بریانی کو اپنی پسندیدہ ڈش قرار دیا اور کہاکہ پاکستانی گھروں میں مہمان کے ساتھ برتاؤ دنیا میں منفرد ہے۔
نوجوان نسل مستقبل کی ضمانتانہوں نے کہاکہ اگر کسی ملک کے ساتھ اگلے 50 سال کے لیے مضبوط تعلقات قائم کرنے ہوں تو نوجوانوں پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ امریکی سفارت خانے کی کوشش ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کو تعلیم، تحقیق اور معاشی مواقع سے متعلق مستند اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کی جائیں۔
پاکستانی عوام کے لیے پیغاماینڈی ہیلس نے پاکستانی نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ یو ایس ای ایف پی اور ایجوکیشن یو ایس اے کے مفت تعلیمی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان امریکا کے ساتھ معاشی تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
انہوں نے کہاکہ یہ تمام سہولیات عوام کے لیے بلا معاوضہ اور قابلِ رسائی ہیں، اور امریکی سفارت خانہ پاکستانی نوجوانوں کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اینڈی ہیلس پاکستان امریکا تعلقات سرمایہ کاری مائنز اینڈ منرلز وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اینڈی ہیلس پاکستان امریکا تعلقات سرمایہ کاری مائنز اینڈ منرلز وی نیوز انہوں نے کہاکہ امریکا تعلقات اینڈی ہیلس نے امریکی سفارت سرمایہ کاری پاکستان میں کہ پاکستان کہ امریکی فل برائٹ کے ساتھ کے لیے یو ایس
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔