وینزویلا سے پیٹرول کی منتقلی؟ امریکا نے 2 روسی تیل بردار جہاز ضبط کرلیے
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
امریکی افواج نے بحر اوقیانوس پر دو تیل بردار جہازوں کو پکڑ کر عملے کو تحویل میں لے لیا جو مبینہ طور پر وینزویلا سے غیر قانونی طور پر تیل منتقل کررہے تھے۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے بتایا کہ تیل بردار جہازوں کے خلاف یہ کارروائیاں پیٹرول کی غیر قانونی تجارت اور پابندیوں کے نفاذ کو یقینی بنانے کا حصہ ہیں۔
امریکی حکام نے بتایا کہ پہلا جہاز جسے ضبط کیا گیا اس کا نام Marinera تھا اور اس پر روس کا پرچم لہرا رہا تھا۔
امریکا کا کہنا ہے کہ یہ جہاز امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا تھا اور اسی لیے امریکی وفاقی عدالت کے وارنٹ کے تحت قبضے میں لیا گیا۔
بحراوقیانوس کی امریکی یورپی کمانڈ کے بیان میں کہا گیا کہ کوئسٹ گارڈ کٹر نے جہاز کا تعاقب کیا اور اسے روک کر ضبط کیا گیا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ یہ جہاز وینزویلا سے غیر قانونی تیل برآمد کرنے میں ملوث تھا جس پر امریکا نے پابندی عائد کررکھی ہے۔
دوسرا تیل بردار جہاز جسے امریکی فورسز نے قبضے میں لیا وہ ایم ٹی صوفیہ نامی تھا جسے کریبین کے پانیوں پر ضبط کیا گیا اور جس پر کسی ملک کا پرچم نہیں تھا۔
اس جہاز کو کسی ملک کا پرچم نہ لہرانے کے جرم میں ضبط کیا گیا اور اسے ان جہازوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو غیر شفاف یا خفیہ طریقے سے تیل کی نقل و حمل کر رہے ہیں۔
امریکی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اس تیل بردار کا براہِ راست تعلق بھی وینزویلا سے ہے یا نہیں۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
امریکا کا مؤقف ہے کہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی تیل بردار جہاز کے خلاف کارروائی کی جائے گی چاہے وہ دنیا کے کسی بھی سمندر میں ہو۔
خیال رہے کہ امریکا نے 3 جنوری کو وینزویلا پر حملہ کرکے صدر مادورو کو اہلیہ سمیت حراست میں لیا اور نیویارک منتقل کردیا ہے جس کے بعد تیل کی پابندیوں اور سمندر میں بحری ناکہ بندی کو سخت کیا ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تیل بردار جہاز وینزویلا سے ضبط کیا گیا بتایا کہ اور اس
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم