تمام پاکستانیوں کے لیے بجلی کے نرخ کم ہوگئے، اب فی یونٹ ریٹ کیا ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 93 پیسے کمی کی منظوری دے دی ہے، جس سے ملک بھر کے صارفین کو ریلیف ملے گا۔
نیپرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ کمی نومبر کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی ہے، جس کا فائدہ صارفین کو جنوری کے بجلی کے بلوں میں دیا جائے گا۔
کن صارفین کو فائدہ ہوگا؟اتھارٹی کے مطابق اس کمی کا اطلاق کراچی سمیت پورے ملک کے تمام صارفین پر ہوگا، تاہم لائف لائن صارفین اس ریلیف سے مستفید نہیں ہو سکیں گے۔
سی پی پی اے کی درخواست اور اربوں کا ریلیفیہ فیصلہ اس کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے جب سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA) نے نیپرا سے درخواست کی تھی کہ صارفین کو جنوری کے بلوں میں فی یونٹ 72 پیسے واپس کیے جائیں، جس سے صارفین کو 5.
یہ بھی پڑھیں چاہتے ہیں حکومت بجلی کی خرید و فروخت میں پڑے ہی نہیں، وفاقی وزیر توانائی
فیول ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ کارنیپرا ہر ماہ عالمی ایندھن کی قیمتوں اور بجلی پیدا کرنے کی لاگت کا جائزہ لے کر فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کرتا ہے، جس کا اثر بعد کے بلوں میں صارفین تک منتقل کیا جاتا ہے۔
2026 کے لیے نئی اوسط بجلی ٹیرف کا اعلاننیپرا نے جنوری تا دسمبر 2026 کے لیے بجلی کی نئی اوسط بنیادی ٹیرف 33.38 روپے فی یونٹ مقرر کر دی ہے، جو مسلسل اضافوں کے بعد صارفین کے لیے قدرے ریلیف تصور کی جا رہی ہے۔
مالی سال کے بجائے کیلنڈر سال کا نظاماہم بات یہ ہے کہ حکومت نے بجلی کے نرخوں کے تعین کا نظام مالی سال کے بجائے کیلنڈر سال کی بنیاد پر منتقل کر دیا ہے، اور نیا صارف ٹیرف یکم جنوری 2026 سے نافذ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے نیپرا کے فیصلوں سے اصلاحاتی عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے، وزارت توانائی نے تحفظات کا اظہار کردیا
نیپرا کے مطابق نیا ٹیرف جولائی تا دسمبر 2025 کے مقابلے میں 62 پیسے کم ہے، جبکہ مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط ٹیرف 34 روپے فی یونٹ رہا۔
تاہم اس وقت ملک میں بجلی کی بنیادی قیمت 31.59 روپے فی یونٹ ہے، جس کے مقابلے میں نئی ٹیرف 1.79 روپے زیادہ ہے۔
ڈسکوز کے اخراجات اور فروخت کا تخمینہنیپرا کے مطابق 2026 کے لیے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی مجموعی مالی ضرورت 3 ہزار 379 ارب روپے ہے، جس میں 2 ہزار 923 ارب روپے بجلی کی خریداری
456 ارب روپے آپریشنل اخراجات اور منافع شامل ہیں۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ سالانہ بجلی کی فروخت 101 ارب یونٹس متوقع ہے اور نئے ٹیرف کے ذریعے شعبے کی مالی ضروریات پوری کی جا سکیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجلی کے نرخ کم نیپرا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بجلی کے نرخ کم نیپرا صارفین کو کے مطابق ارب روپے بجلی کی فی یونٹ بجلی کے کے لیے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔